استنبول میں زلزلہ، 473 عمارات متاثر

0 298

استنبول شہر میں آنے والے 5.8 کی شدت کے زلزلے کے بعد نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس پلان (TAMP) کے حکام نے جمعے کو ایک ہنگامی اجلاس کا انعقاد کیا۔ نائب صدر فواد اوقتائی نے اجلاس کی صدارت کی اور اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس زلزلے کے نقصانات سے آگاہی فراہم کی۔

"ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ پریزیڈنسی (AFAD) کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے والی عمارتوں کی تعداد 473 تھی۔ بیشتر نقصانات معمولی ہیں جیسا کہ دیواروں پر دراڑیں آ گئیں۔ ان تمام عمارتوں کا جائزہ لی جائے گا اور ان کے مالکان کو نتائج سے آگاہ کیا جائے گا۔ بنیادی ڈھانچے کو کوئی سنجیدہ نقصان نہیں پہنچا ہے۔” انہوں نے کہا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق آوجیلر ضلع کی ایک مسجد کا مینار گر گیا جبکہ سلطان غازی اور ایوب اضلاع میں بھی دو عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔ شیرین اولر ضلع میں ایک مکان زلزلے کے بعد ایک طرف جھک گیا ہے جس کی وجہ سے اس عمارات اور ملحقہ علاقے کو خالی کروانا پڑا۔

فواد اوقتائی نے کہا کہ متاثر ہونے والی عمارتوں میں 10 اسکول بھی شامل ہیں کہ جن کی جانچ کی گئی ہے۔ "14 اسکولوں کو زیادہ جامع معائنے کی ضرورت ہے اور اس لیے انہیں ایک دن کے لیے بند کردیا گیا۔ ”

زلزلے میں 34 شہری زخمی ہوئے جن میں سے 10 اب بھی ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں اور باقی ابتدائی امداد کے بعد گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔

نائب صدر کے مطابق زلزلے کے بعد کل 188 آفٹر شاکس آئے کہ جن میں سب سے بڑا 4.1 کی شدت کا تھا۔

تبصرے
Loading...