انطالیہ میں ‏ECO اجلاس، اقتصادی تعاون کے فروغ کا مشترکہ وژن، مسئلہ کشمیر بھی اٹھایا گیا

0 146

اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) کی وزراء کونسل (COM) کا 24 واں اجلاس 9 نومبر 2019ء کو انطالیہ میں منعقد ہوا۔

پارلیمانی سیکریٹری امورِ خارجہ عندلیب عباس نے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کی، جس میں وزرائے خارجہ/نائب وزرائے خارجہ اور ECO کے رکن اور مبصر ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی خصوصی مہمان کی حیثیت سے COM میں شریک ہوئے جبکہ سیکریٹری جنرل ECO ڈاکٹر ہادی سلیمان پور نے ECO سیکریٹریٹ کی نمائندگی کی۔

وزراء کونسل کے لیے اپنے پیغام میں پارلیمانی سیکریٹری عندلیب عباس نے رکن ریاستوں کے مابین باہمی تعلقات، تجارت اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ECO کو ایک کارآمد پلیٹ فارم بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ انجمن کی صلاحیتوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے ECO تجارتی معاہدہ اور ٹرانزٹ ٹرانسپورٹ فریم ورک معاہدے پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس امر کا جائزہ لینے پر زور دیا کہ اتنے زیادہ وسائل ہونے کے باوجود آخر انجمن وہ نتائج کیوں نہ حاصل کر پائی جو اس کے تمام اراکین پانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو نتائج ہم حاصل نہیں کر پائے، ان کے لیے ہمیں وہ کرنا ہوگا جو اب تک نہیں کر سکے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے خاص طور پر عورتوں اور بچوں کے خلاف مظالم اور انسانی وقار کی کھلی خلاف ورزیوں پر پارلیمانی سیکریٹری نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ علاقائی امن و سالمیت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور علاقے کی حقیقی اقتصادی صلاحیت کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔ انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اس تصفیہ طلب مسئلے کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پُر امن حل کے لیے کھڑے ہوں۔ ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے یقین دلایا کہ پاکستان اور کشمیر کو ترکی کی مدد حاصل رہے گی۔

کرتارپور راہداری کھولنے کے پاکستانی قدم کے حوالے سے پارلیمانی سیکریٹری نے کہا کہ آج پاکستان کی تاریخ کا ایک یادگار دن ہے۔ دنیا بھر سے ہزاروں سکھ یاتری بابا گرو نانک 550 واں جنم دن منانے کے لیے پاکستان آ رہے ہیں۔ پاکستان اقتصادی راہداری ہی نہیں، بلکہ ایک امن راہداری بھی بنانا چاہتا ہے۔

اجلاس میں پچھلے COM اجلاس کے بعد ہونے والی پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سیکریٹری جنرل ڈاکٹر سلیمان پور نے مختلف شعبوں میں ہونے والی مجموعی، تجارت اور سرمایہ کاری؛ ٹرانسپورٹ اور کمیونی کیشنز؛ زراعت و غذائی تحفظ؛ توانائی اور ماحولیات اور بین الاقوامی تعلقات میں اٹھائے جانے والے اقدامات ظاہر کیے۔ اسلام آباد اجلاس میں طے کیے گئے وژن 2025ء پر نظر ثانی کی گئی اور پارلیمانی سیکریٹری نے اس وژن کے نفاذ پر زور دیتے ہوئے رکن ممالک سے کہا کہ وہ ECO کو حقیقتاً مؤثر بنائیں۔

اجلاس کے بعد سے ECO کی پیشرفت پر بھی گفتگو کی گئی اور علاقائی تعاون کی بدلتی ضروریات کے مطابق ضروری ممکنہ اصلاحات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

شرکاء نے ECO رکن ریاستوں کے درمیان علاقائی معیشت کے فروغ کے عہد کا بھی اعادہ کیا اور انجمن کے مقاصد اور اہداف کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے متحرک کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

وزرائے خارجہ کی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے علاوہ پارلیمانی سیکریٹری نے ایران، ترکی، افغانستان اور ECO کے سیکریٹری جنرل کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔ انہوں نے خطے میں حالیہ پیشرفت اور اقتصادی تعاون تنظیم کے حوالے سے معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے اتفاق کیا کہ ECO کو خطے کی ترقی و ترویج کے لیے اقتصادی تکمیل کے مؤثر میکانزم کو مکمل کرنا چاہیے۔ انہوں نے دو طرفہ تعلقات کی کیفیت پر بھی گفتگو کی۔

تبصرے
Loading...