ملنے والے گیس کے ذخائر کی مالیت تقریباً 65 ارب ڈالرز ہے، وزیرِ توانائی

0 1,354

ترکی کے وزیرِ توانائی فاتح دونمیز نے کہا ہے کہ بحیرۂ اسود سے ملنے والے قدرتی گیس کے نئے ذخائر کی مالیت تقریباً 65 ارب ڈالرز ہے۔

ترکی نے جمعے کو قدرتی گیس کے سب سے بڑے ذخائر ملنے کا اعلان کیا ہے جو بحیرۂ اسود کی ایک فیلڈ سے ملے ہیں جن کا کُل اندازہ 320 ارب مکعب میٹر (bcm) لگایا گیا ہے۔ صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا تھا کہ یہ ایک کہیں بڑے ذخائر کا محض ایک حصہ ہیں اور 2023ء سے ترکی اس گیس کا باقاعدہ استعمال شروع کر دے گا۔

دونمیز نے کہا کہ "عالمی سطح پر گیس کی قیمتیں تیل سے جڑی ہوئی ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ بحیرۂ اسود میں دریافت ہونے والے گیس کے ذخائر کی مالیت 65 ارب ڈالرز تک ہو سکتی ہے، اگر ہم انہیں پچھلے 3 سے 5 سال کی گیس کی قیمتوں کے تناظر میں دیکھیں تو۔”

اس فیلڈ کا آپریشن سرکاری توانائی ادارہ ترکش پٹرولیم کارپوریشن (TPAO) سنبھالے گا۔ انہوں نے کہا کہ "اگلے کچھ عرصے میں ہم خود سیسمک ریسرچ اور ڈرلنگ کریں گے۔ یہ پورا آپریشن TPAOچلائے گا۔

دونمیز نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ اس گیس کو ساحل تک لانے کے لیے پائپ لائن کی تعمیر کی خاطر ایک بین الاقوامی ٹینڈر جاری کیا جائے۔

یہ دریافت صقاریہ گیس فیلڈ میں ٹونا-1 نامی کنویں میں ہوئی ہیں، جو بحیرۂ اسود کے ترک ساحلوں سے تقریباً 170 کلومیٹرز دور ہے۔ یہ مقامی سطح پر تیل و گیس تلاش کرنے کی ترکی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

ترکی کے پہلے تیل اور گیس ڈرلنگ بحری جہاز ‘فاتح’ نے 20 جولائی 2020 کو ڈرلنگ کا آغاز کیا تھا اور ایک مہینے کی ڈرلنگ کے بعد اس کنویں کو دریافت کیا۔

دونمیز نے کہا کہ اگر ہمیں کوئی اور ذخیرہ نہ بھی ملا تو یہ ذخیرہ تقریباً 7 سے 8 سال کی ہماری ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔

ترکی بہت عرصے سے ملک میں گیس کے ذخائر تلاش کرنے کی کوشش کر رہا تھا کیونکہ اس کا 99 فیصد انحصار درآمدات پر ہے۔ ان میں سے زیادہ تر درآمد روس سے ہوتی ہے جبکہ آذربائیجان اور ایران بھی گیس درآمدات میں اہم حصہ رکھتے ہیں۔ترکی نے پچھلے سال 45.3 ارب مکعب میٹر گیس درآمد کی تھی جس کی کُل مالیت تقریباً 12 ارب ڈالرز بنتی ہے۔

یہ نو دریافت شدہ ذخیرہ ترکی کی موجودہ گیس پیداوار سے تقریباً 20 گنا بڑا ہے۔ ترکی کی کل گیس پیداوار 2019ء میں 173.8 ملین مکعب میٹر تھی۔

ان 320 ارب مکعب میٹر گیس کے ذخائر کی دریافت علاقے میں ترکی کے بحری جہازوں باربروس خیر الدین اور عروج رئیس کی دو سال کی ان تھک تحقیق کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے۔

تبصرے
Loading...