دہشتگردی کے خلاف جنگ میں موثر عالمی باہمی تعاون ضروری ہے، ترک صدارتی ترجمان

0 525

مصر میں ہونے والے بم دھماکے پر ایک تحریری بیان میں ترک صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے کہا ہے: "ترکی دہشتگردی کو انسانیت کے خلاف ایک جرم سمجھتا ہے چاہے اس کا ذریعہ اور محرک کچھ بھی ہو۔ اور اپنے اس موقف کو عالمی، علاقائی اور دو طرفہ بات چیت میں سب تک پہنچاتا ہے”۔

جمعہ کے روز مصری صوبہ سیناء کے شہر العریش کی مسجد الرویضہ میں بعد از نماز جمعہ ہونے والے حملے پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

ترک صدارتی ترجمان اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل سفارتکار ابراہیم قالن نے کہا ہے کہ ہماری اطلاعات کے مطابق 200 سے زائد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 125 کے قریب زخمی ہیں-

ہم اس دلخراش حملے کی پرزور مذمت کرتے ہیں- انہوں نے جان ہارنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعاء کی اور ان کے ورثاء سے اظہار تعزیت کیا- جبکہ زخمیوں کے لیے جلد صحت یابی کی دعاء کی-

ترکی مصری عوام کے غم میں برابر کا شریک ہے

صدارتی ترجمان نے مزید کہا: "ترکی دہشتگردی کو انسانیت کے خلاف ایک جرم سمجھتا ہے چاہے اس کا ذریعہ اور محرک کچھ بھی ہو۔ اور اپنے اس موقف کو عالمی، علاقائی اور دو طرفہ بات چیت میں سب تک پہنچاتا ہےـ دنیا کے مختلف خطوں میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات اس بات پر زور دیتے ہیں کہدہشتگردی کے خلاف جنگ میں موثر عالمی باہمی تعاون ضروری ہے، مصری بھائیوں کے غم میں برابر کا شریک ہے”-

تبصرے
Loading...