مصری صدر ڈاکٹر مرسی کو ‘توہین عدالت’ پر 3 سال قید کی سزا

0 282

مصر کے سب سے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی اور ان کے 19 ساتھیوں کو توہین عدالت پر 3 سال کی قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

سرکاری ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سزا قاہرہ کی کرمنل کورٹ نے جاری کی اور ان پر چارج شیٹ عائد کی گئی کہ انہوں نے 4 سال قبل عوامی تقریر میں نفرت پھیلاتے ہوئے عدالت کی شہرت کو نقصان پہنچایا۔

کیس کے مدعان علیہ میں 25 افراد شامل تھے جن میں پانچ افراد کو 2013ء میں غیر قانونی احتجاج کرنے پر پانچ سال قید اور 30 ہزار مصری پونڈز جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔ ان میں معروف سماجی کارکن علی عبد الفتاح اور سیاسی تجزیہ نگار امر حمزاوے شامل ہیں۔

ملزمان پر چارج شیٹ عائد کی گئی کہ  ٹی وی چینلوں ، ریڈیو اسٹیشنوں اور سوشل میڈیا یا اشاعتی مواد کے ذریعے نفرت اور عدلیہ کی توہین کی گئی ہے۔

الاھرام نیوز کے مطابق عدالت نے صدر ڈاکٹر محمد مرسی پر ایک جج کے ازالے کے لیے 1 ملین مصری پاؤنڈز کا جرمانہ بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ تمام ملزمان کو یہ بھی حکم جاری کیا گیا ہے کہ وہ ججز کلب کی یونین کو ایک ملین مصری پاؤنڈ بطور جرمانہ دیں۔

کیس کے فیصلہ پر اپیل کا حق بھی دیا گیا ہے۔

سماجی کارکن عبد الفتاح ایک معروف بلاگر رہے ہیں جن کے بلاگز نے 2011ء میں عرب بہار میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ جس کے بعد حسنی مبارک کی آمرانہ حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔ وہ بنیادی طور پر سافٹ وئیر انجینیر ہیں انہوں نے حسنی مبارک کے خاتمے کے 17 ماہ بعد تک ملٹری کونسل کی پالیسیز کے خلاف مہم چلائی تھی۔

مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی 2013ء میں مصری صدارت سنبھالے ہوئے تھے اور انہوں نے ایک ٹیلی ویژن تقریر کی جس پر ان پر مقدمہ بنایا گیا ہے۔

2013ء کے وسط میں ڈاکٹر محمد مرسی کو ایک خونی مارشل لاء کے ذریعے اقتدار سے علیحدہ کر دیا تھا۔ اقتدار سے علیحدگی کے بعد ان پر کئی طرح کے مقدمات بنائے گئے جن کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

تبصرے
Loading...