مصر کے پہلے جمہوری صدر محمد مُرسی انتقال کرگئے

0 1,774

مصر کے پہلے اور واحد جمہوری طور پر منتخب ہونے والے صدر محمد مُرسی جاری مقدمے کے دوران عدالت میں ہی انتقال کرگئے۔

67 سالہ مُرسی نے انتقال سے قبل ہی عدالت سے خطاب کیا اور خبردار کیا کہ ان کے پاس کئی راز ہیں جن کو وہ افشاء کر سکتے ہیں، ایک عدالتی عہدیدار نے بتایا۔ اس کے چند منٹ بعد وہ گرگئے۔ سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق ان کی وفات دل کے دورے کی وجہ سے ہوئی۔ اپنے آخری تبصرے میں انہوں نے کہا کہ وہ مصر کے واحد قانونی اور آزادانہ طور پر منتخب ہونے والے صدر ہیں، اور خصوصی ٹریبونل کا مطالبہ کیا، وکلائے دفاع میں سے ایک کامل مدور نے بتایا۔

مُرسی جولائی 2013ء میں فوج کے ہاتھوں اقتدار کے خاتمے اور اخوان المسلمون کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کے آغاز سے متعدد الزامات پر قید میں تھے۔ گزشتہ روز ہونے والی عدالتی کارروائی قید خانے کے اندر ہوئی کہ جس میں فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے ساتھ مل کر جاسوسی کرنے کے الزامات کا سامنا تھا۔

مُرسی کے صاحبزادے احمد نے ایک فیس بک پوسٹ میں والد کی وفات کی تصدیق کی۔ وہ 2012ء کے صدارتی انتخابات میں اپنی امیدواریت کی درخواست میں جھوٹ بولنے کے الزام پر سات سال قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ اخوان المسلمون نے مصری حکام کو مرسی کی "جان بوجھ کر آہستہ آہستہ موت” کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ مصری حکام نے "انہیں قیدِ تنہائی میں ڈال رکھا تھا، ادویات روک رکھی تھیں اور انہیں ناقص خوراک فراہم کی جاتی، انہوں نے بنیادی انسانی حقوق تک غصب کرلیے،” اخوان کی آزادی و انصاف پارٹی نے ایک بیان میں بتایا۔ اخوان المسلمون کے سینئر عہدیدار عمرو دراغ نےمرسی کے جسد خاکی کے معائے کے لیے ایک بین الاقوامی ماہر ٹیم کا مطالبہ کیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی مرسی کی موت کی آزادانہ، شفاف اور جامع تحقیق کا مطالبہ کیا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے مرسی کو "شہید” قرار دیا ہے اور ان کے اہلِ خانہ اور مصری عوام سے اظہارِ تعزیت کیا ہے۔ "بدقسمتی سے یہ واقعہ کمرۂ عدالت میں پیش آیا۔ میں سب سے پہلے اپنے شہید بھائی مرسی کے لیے مغفرت کی دعا کرتا ہوں۔ مغرب عبد الفتح سیسی کے ہاتھوں ایسی اموات پر خاموش رہتا ہے۔ یورپی یونین کے رکن ممالک اسی قاتل سیسی کی دعوت پر مصر میں ایک اجلاس کا دعوت نامہ قبول کر چکے ہیں۔” انہوں نے یورپی یونین کو "منافقت” کا حامل قرار دیا اور سیسی کو ایک "جابر” کہا کہ جس نے ایک "بغاوت” کے ذریعے اقتدار حاصل کیا اور جمہوریت کو کچلا۔

ایردوان نے کئی مواقع پر مرسی کی حکومت کے تختہ الٹنے کی سختی سے مذمت کی اور مصر میں اخوانی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

مصطفیٰ شین توپ، چیئرمین ترک قومی اسمبلی، نے بھی مصری عوام، اسلامی دنیا اور دنیا بھر کی مظلوم اقوام سے اظہار تعزیت کیا۔ ” مرسی نے آزادی اور عوام کی بہبود کے لیے جدوجہد کی اور مصر میں اور محمد مرسی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ قانونی حکومتوں کو ہدف بنانے والے باغی عناصر کی اصل فطرت اور کارگزاریوں کو ظاہر کرنے کے لیےکافی ہے اور اس نے مغرب کے حواریوں کا اصل چہرہ بھی بے نقاب کردیا ہے۔” انصاف کے پیمانوں پر اور تاریخ کے صفحات پر مرسی اور ان کے ساتھیوں کو فاتح قرار دیتے ہوئے شین توپ نے کہا کہ باغی عناصر ہی اصل میں شکست خوردہ ہیں اور مرسی کو ایک عظیم رہنما قرار دیا کہ جو پوری بہادری کے ساتھ کھڑے رہے۔

وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے نے کہا کہ "بغاوت نے انہیں اقتدار سے تو نکال دیا لیکن ان کی یاد دلوں سے نہیں مٹے گی۔ امت ان کی ثابت قدمی کو کبھی نہیں بھولے گی!”

تبصرے
Loading...