اہلِ جفا – ترک پارلیمنٹرین علی شاہین (ستارہِ پاکستان)

0 1,298

میں علی شاہین ۔۔۔۔

میں نے پاکستان کو کبھی بھی اپنے آبائی ملک سے الگ (ملک کے طور پر) نہیں دیکھا۔ گذشتہ ماہ اپنے محترم صدر جمہوریہ کے ساتھ پاکستان کا دورہ کرتے ہوئے پاکستانی دوستوں نے مجھے دوسرے وطن کے طور پر خوش آمدید کہا۔ میں نے انہیں کہا کہ جتنا ترکی میرا آبائی وطن ہے اتنا ہی پاکستان میرا آبائی وطن ہے۔

کیوں؟

کیونکہ ہم ترک بچے، اپنے ڈی این اے میں پاکستان کی محبت کے نقش کئے گئے کوڈز کے ساتھ اس دنیا میں آتے ہیں۔ اس وجہ سے ترکی پاکستان بھائی چارگی، ایک ایسی بے مثال جیناتی بھائی چارگی ہے جس کی کوئی مثال دنیا میں نہیں ملتی-

بلوچستان کے بچے میرے بچے ہیں۔۔۔
خیبر پختونخوا کی مائیں میری مائیں ہیں۔۔۔
پنجاب کے چاول کے کھیتوں میں کام کرنے والی عورتیں، میری بہنیں ہیں۔۔۔
سندھ کی گندمی رنگت والے، فراغ دل، قدر شناس انسان میرے بھائی ہیں۔۔۔
کشمیر میرا تنفس، میرا سانس ہے۔۔۔

سندھ، جہلم، چناب اور ستلج کا ٹھاٹھیں مارتا پانی نہ صرف پنجاب اور سندھ کی زمینوں کو سیراب کرتا ہے، بلکہ میری پاکستانی روح کو بھی سیراب کرتا ہے۔

عزیز دوستو!
جیسے آپ کا دل، ایک انسان اور ملک کو دیکھنا پسند کرتا ہے ویسے ہی آپ کا دماغ، آپ کی آنکھوں کے سامنے اس کی شکل بناتا ہے۔

پاکستان؛ سندھی، بلوچی، پختون، پنجابی اور کشمیر کے رنگوں سے مزین ایک پھولوں کا گلدستہ ہے۔

بے مثال ثقافت اور طرز زندگی کا نمونہ ہے۔

پاکستان، بحر ہند کے ساحل پر اللہ کی رنگی گئی ایک شاندار مصوری ہے۔

میرے دل نے ایسا ہی ایک پاکستان میرے آنکھوں کے سامنے رکھ دیا ہے اور میں اس پاکستان سے بہت پیار کرتا ہوں۔۔۔

ایسا آسانی سے نہیں ہوا

مشقت، صبر، جدوجہد اور توکل، میری زندگی کے پروان چڑھنے والے دور کی پہچان بننے والے الفاظ ہیں۔

جی ہاں، یہ کبھی بھی آسان نہیں تھا۔ میں نے آج کے علی شاہین کو تفتان کے صحراؤں کی معصوم اور ویران راتوں کا سفر کرتے ہوئے تیار کیا ہے۔

کراچی سے شروع کر کے غازی انیب تک 7 دنوں کا اپنا پُرمشقت سفر کرتے ہوئے میں نے کبھی سوچا تک نہیں تھا کہ ایک دن میرا پاکستان مجھے ایسے بڑے اعزاز کے قابل سمجھے گا۔

لیکن جیسے اللہ کا وعدہ ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی اور خوشخبری آتی ہے۔ اور آج اس الہی خوشخبری کے ساتھ ہم ایک دوسرے کے سامنے ہیں۔ اور میں اپنی زندگی کا سب سے خصوصی دن بیتا رہا ہوں۔۔۔

مجھے پاکستان کے ستارہ قائداعظم کے قومی اعزاز کے قابل سمجھنے پر، سب سے پہلے میں صدر مملکت پاکستان جناب عارف علوی کا، ریاستِ پاکستان کا، محترم سفیر ہائی ایکسیلینسی سیرس سجاد قاضی اور پوری پاکستانی عوام کا بےحد شکر گزار ہوں۔

اور اپنی زندگی کے اس سب سے زیادہ قیمتی ایوارڈ کو
پاکستان کی محبت میں مجھے پالنے والے اپنے ماں اور باپ کے
مجھے حصول علم کے لیے پاکستان بھیجنے والے مرحوم نجم الدین اربقان کے
پاکستان اور ترکی کے تعلقات میں مجھے خدمت گزار بنانے والے اپنے لیڈر رجب طیب ایردوآن کے
میری طرف سے ہمیشہ نظر انداز کر دینے کے باوجود میری پشت پر ہمالیہ کی طرح کھڑی رہنے والی اپنی پیاری بیوی ایبرو شاہین اور اپنے بچوں کے
مجھے اپنا معنوی بیٹا قبول کرنے والی اپنی معنوی ماں مانرا بی بی کے
اور جس کا معمار اللہ ہے، اس قدیم اور ابدی ترک پاکستان دوستی کے نام کرتا ہوں

14 اگست پاکستان کی آزادی کی سالگرہ کے دن کی مناسبت سے میں تمام پاکستانی بھائیوں کو 14 اگست یوم آزادی کی مبارکباد دیتا ہوں۔
آخری الفاظ جیسا کہ علامہ محمد اقبال نے کہا،
چین و عرب ہمارا، ہندوستان ہمارا
مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا

تبصرے
Loading...