انسانیت کے لیے کام کرنے پر خاتونِ اوّل کے لیے اعزاز

0 788

خاتونِ اوّل امینہ ایردوان نے انسانیت کے لیے اپنے متاثر کُن کام کی بدولت ورلڈ ہیومینیٹیرین فورم کی جانب سے چینج میکر ایوارڈ وصول کیا ہے۔

لندن میں منعقدہ ایوارڈز کی تقریب میں امینہ ایردوان کے علاوہ معروف انسان دوست شخصیات، نان پرافٹ اداروں کے نمائندوں اور دیگر مہمانوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے خاتونِ اوّل نے کہا کہ "میں ترکی کے ان کشادہ دل عوام کی جانب سے یہ اعزاز حاصل کر رہی ہوں کہ جن کے دل کسی روتے بچے کو دیکھ کر پگھل جاتے ہیں، جو غیر ملکی کو خدا کا مہمان سمجھتے ہیں اور اسے شک کی نگاہوں سے نہیں دیکھتے۔ مجھے فخر ہے کہ میرے ملک کو دنیا کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے مساوات کا علم اور جامع اقدامات اٹھانے کی بدولت یاد رکھا گیا ہے۔”

"میں مذہب، زبان یا نسل سے بالاتر کوششوں کو سراہنے پر ورلڈ ہیومینیٹیرین فورم کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ بدقسمتی سے تاریخ، جنگ و جدل، تباہی، آنسوؤں اور خون سے بھری پڑی ہے۔ جب سے بنی نوع انسان کا وجود ہے، انسانی زندگیوں کو کبھی اتنی توجہ نہیں دی گئی، جتنی دینی چاہیے تھی۔”

انہوں نے مزید کہا کہ "ایک طرف دنیا کے چند علاقے امن، اعتماد اور استحکام کے لیے ترس رہے ہیں تو دوسری جانب کسی کو اندازہ بھی نہیں کہ اسی کرۂ ارض پر انسانیت زوال پذیر ہے۔ جس دنیا میں ہم آج رہ رہے ہیں، وہ بدقسمتی سے 21 ویں صدی میں ترقی و تہذیب کے بلند و بانگ دعووں کے باوجود بڑے انسانی بحرانوں سے گزر رہی ہے۔ اس پس منظر کو دیکھتے ہوئے انفرادی و اجتماعی دونوں حیثیتوں میں یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اچھائی کا ساتھ دیں یا پھر برائی کو چنیں۔ ترک معاشرے میں ہم آسمان کو ایک چھت سمجھتے ہیں کہ جس کے تلے انسانیت ایک خاندان کے طور پر رہتی ہے۔ہم رومی کی تعلیمات پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر چراغ سے چراغ کو روشن کیا جائے تو اُس چراغ کی اپنی روشنی میں کوئی کمی نہیں آتی۔ ہمارا ماننا ہے کہ بچے کے چہرے پر مسکراہٹ دنیا کے عظیم ترین خزانوں میں سے ایک ہے۔”

خاتونِ اوّل امینہ کو مظلوم طبقے کی آواز بننے اور مہاجرین کے لیے دروازے کھولنے کی بدولت اپنے شوہر صدر رجب طیب ایردوان کی طرح خوب سراہا جاتا ہے۔ وہ عرب دنیا اور مغربی ممالک کے رہنماؤں کی اہلیاؤں کے اس کنونشن کی بھی روحِ رواں تھیں کہ جس نے 2009ء میں غزہ پر اسرائیلی حملے روکنے اور فلسطینی علاقوں کا محاصرہ ختم کرنے کے مطالبے کیے تھے۔

امینہ نے 2010ء میں پاکستان میں تاریخ کے بدترین سیلاب سے متاثرہ لاکھوں افراد کی مدد کے لیے بین الاقوامی خیراتی اداروں کو متحرک کرنے کے لیے بھی ایک زبردست مہم چلائی تھی۔

خاتونِ اوّل نے 2012ء میں برما جانے والے وفد کی بھی قیادت کی تھی کہ جہاں روہنگیا مسلمان بدترین حالات اور اپنے خلاف سنگین تشدد کے باوجود مقیم تھے۔ مسلمانوں کی حالت کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے علاوہ امینہ ایردوان نے انہیں امداد بھی فراہم کی۔ انہوں نے 2017ء میں ایک دوسرے وفدکے ساتھ بنگلہ دیش میں واقع روہنگیا مسلمانوں کے کیمپوں کا بھی دورہ کیا۔

تبصرے
Loading...