خاتون اوّل امینہ ایردوان نے روہینگیا مسلمانوں سے ملیں، امداد تقسیم کی

0 286

وفد کے ہمراہ بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے روہینگیا مسلمانوں میں امداد تقسیم کرتے ہوئے خاتونِ اوّل امینہ ایردوان نے کہا: "یہ نامکن ہے کہ بطور انسان اس معاملے سے علیحدہ رہا جائے- اللہ سب کی مدد کرے- میں امید کرتی ہوں کہ ساری دنیا اس مسئلے پر سنجیدہ ہو گی اور امدادی سرگرمیوں اور سیاسی حل پر توجہ دے گی”-

ترک خاتونِ اوّل امینہ ایردوان نے میانمار کی شمالی ریاست اراکان میں ریاستی جبر و تشدد کا نشانہ بننے والے روہینگیا مسلمانوں کی حالت زار کا جائزہ لینے اور دلجوئی کے لیے بنگلہ دیش کا دورہ کیا- انہوں نے امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور لٹے پُٹے روہینگیا مسلمانوں میں سامان تقسیم کیا-

ترک وفد میں ان کے بیٹے بلال ایردوان، وزیر خاندانی و سماجی امور فاطمہ بتول سیان کایا، آق پارٹی کے شعبہ حقوق انسانی کے چیئرمین راوضا کاواکجی، ترک ادارہ برائے باہمی تعاون و رابطہ (ٹیکا) کے صدر سردار چام، ترک دیزاسٹر و ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایف اے ڈی) کے صدر محمد گلو اوّلو، ترک ہلال احمر کے ڈائریکٹر جنرل ابراہیم آلتن، ترک نوجواناں و تعلیمی خدمت کی فاؤنڈیشن ‘خادم’ کے سربراہ سارہ آئیدن شامل تھیں- روہینگیا کیمپس کے قریبی شہر کاکس بازار میں بنگلہ دیشی حکام نے خاتون اوّل کا استقبال کیا-

اس کے بعد امینہ ایردوان نے ترک وزیر خارجہ میولوت چاوش اوّلو اور ان کی اہلیہ خولیا چاوش اوّلو کے ہمراہ کوتوپلانگ کیمپ کا دورہ کیا جہاں بڑی تعداد میں روہینگیا مسلمان آباد ہیں-

اس موقع پر انہوں نے کہا: "یہ نامکن ہے کہ بطور انسان اس معاملے سے علیحدہ رہا جائے- اللہ سب کی مدد کرے- میں امید کرتی ہوں کہ ساری دنیا اس مسئلے پر سنجیدہ ہو گی اور امدادی سرگرمیوں اور سیاسی حل پر توجہ دے گی”-

تبصرے
Loading...