بذریعہ کشتی باسفورس کا سفر، استنبول کے حسین مناظر کا لطف اٹھائیں

0 639

استنبول اپنے محلِ وقوع کے لحاظ سے دنیا کے حیرت انگیز شہروں میں سے ایک ہے۔


آبنائے باسفورس دراصل ایک آبی گزرگاہ ہے جو بحیرۂ اسود اور بحیرۂ مرمرہ کو آپس میں ملاتی ہے اور بلاشبہ ایک ہزار سال سے شہر کا مرکز و محور ہے۔


اس لیے یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ استنبول کی سیر میں باسفورس کے سفر کو بہت اہمیت حاصل ہے۔


باسفورس کی سیر کا آسان طریقہ وہ کشتیاں (فیریز) ہیں جو شہر میں باسفورس کے آر پار چلتی ہیں۔ آپ شہر میں ہر قسم کی ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کے لیے کارگر اپنا "استنبول کارڈ” استعمال کرکے ان کشتیوں میں سفر کر سکتے ہیں۔


یورپی کنارے پر ان کشتیوں کے اہم اسٹاپس امینونو اور بیشک تاش اور ایشیائی کنارے پر اسکودار اور قاضی کوئے ہیں۔ البتہ شہر میں ایسے ہی کئی دیگر مقامات بھی ہیں لیکن وہاں سرگرمی کچھ کم ہوتی ہے۔


باسفورس کا طویل سفر

ایسے سفر کا آغاز امینونو میں تاریخی جزیرہ نما کے آخری کنارے سے ہوتا ہے اور کشتی باسفورس کے ساتھ کئی مقامات پر رکتے رکاتے اوپر اس مقام تک جاتی ہے کہ جہاں آبنائے باسفورس بحیرۂ اسود سے جا ملتی ہے۔


ایسے سفر کا آغاز پڑاؤ انادولو قاواغی ہوتا ہے جو شہر کے ایشیائی کنارے پر ماہی گیروں کی ایک چھوٹی سی بستی ہے جو زندگی کی بھاگ دوڑ سے دُور سکون کے چند لمحات گزارنے کے خواہشمندوں کا مسکن ہے۔ یہاں کسی بھی اچھے سے کیفے یا ریستوران میں بیٹھیں اور باسفورس اور بحیرۂ اسود کے خوبصورت نظاروں کا لطف اٹھائیں۔


باسفورس کا مختصر سفر

یہ سفر عموماً امینونو، اسکودار اور اورتاکوئے سے شروع ہوتا ہے اور گھنٹہ ڈیڑھ تک جاری رہتا ہے۔


اس میں کشتیاں زیادہ تر باسفورس پر بننے والے پہلے دو پُلوں کے درمیان چلتی ہیں۔ یہ پورا دن لگائے بغیر باسفورس کی عظمت کا اندازہ لگانے کا آسان طریقہ ہے۔


رات کا سفر

گرمیوں میں اہم بندرگاہوں سے رات کے اوقات میں بھی باسفورس کے تفریحی دورے ہوتے ہیں۔ ان میں سیر و تفریح کے ساتھ موسیقی کا بھی اہتمام ہوتا ہے۔


اس سفر میں آپ کچھ مشہورِ زمانہ تعمیرات بھی دیکھیں گے جیسا کہ میڈنز ٹاور، استنبول کے پُل، عثمانی دور کے محل اور باسفورس کے ساتھ واقع مکانات۔


میڈنز ٹاور

یہ چھوٹا سا خوبصورت ٹاور باسفورس کے درمیان میں ایک جزیرے پر واقع ہے۔ یہ شہر کے کئی مقامات سے نظر آتا ہے اور اس سے کئی کہانیاں جڑی ہوئی ہیں۔


استنبول کے پُل

استنبول میں تین بین البراعظمی پُل ہیں، جنہیں عام طور پر پہلا، دوسرا اور تیسرا پل کہا جاتا ہے (بحیرۂ مرمرہ سے بحیرۂ اسود کی طرف بالترتیب)۔ یہ تین بڑے سسپینشن برج رات کے وقت روشنی سے منوّر کردیے جاتے ہیں۔ ان میں سے ہر پل تعمیرات کا شاہکار ہے۔


عثمانی محلات

اس سفر میں پہلے پُل تک پہنچتے ہوئے آپ کو دولماباخچہ، یلدیز، چراغاں اور بیلربے محلات نظر آئیں گے۔


گھر، نظارے، شہر

اس سفر میں آپ کو باسفورس کے ساتھ کئی عظیم الشان مکانات بھی نظر آئیں گے جنہیں "یالی” کہا جاتا ہے، انہیں دیکھ کر شہر کی زندگی کا اندازہ ہوتا ہے۔

تبصرے
Loading...