کریمیا کی تاریخی سرزمین پر اپنے عزیزوں کی آزادی کو یقینی بنانا ہماری ترجیح ہے، صدر ایردوان

0 606

یوکرین کے صدر زیلنسکی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں صدر ایردوان نے کہا کہ "ہمارے کریمیائی تاتار بھائی اور بہنیں ترکی اور یوکرین کے باہمی تاریخی و سماجی تعلقات کا اہم حصہ ہیں۔ ان عزیزوں کی اپنی تاریخی سرزمین کریمیا میں موجودگی کو برقرار رکھنا، اُن کی شناخت اور ثقافت کا تحفظ اور بنیادی حقوق و آزادی کو یقینی بنانا ہماری ترجیحات میں شامل رہے گا۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے یوکرین کے صدر ولادیمر زیلنسکی کے ساتھ ایوانِ صدر میں مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

"ترکی کریمیا کے غیر قانونی الحاق کو کبھی تسلیم نہیں کرے گا”

ترکی یوکرین کی سالمیت اور کریمیا سمیت اس کے علاقائی و سیاسی اتحاد کی تائید کرتا رہے گا، یہ کہتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ترکی نے کریمیا کے غیر قانونی الحاق کو تسلیم نہیں کیا اور نہ کبھی کرے گا۔ ہمارے کریمیائی تاتار بھائی اور بہنیں ترکی اور یوکرین کے باہمی تاریخی و سماجی تعلقات کا اہم حصہ ہیں۔ ان عزیزوں کی اپنی تاریخی سرزمین کریمیا میں موجودگی کو برقرار رکھنا، اُن کی شناخت اور ثقافت کا تحفظ اور بنیادی حقوق و آزادی کو یقینی بنانا ہماری ترجیحات میں شامل رہے گا۔”

دونباس کے تنازعات پر بات چھیڑتے ہوئے صدر ایردوان نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ معاملات جلد اختتام کو پہنچیں گے، ساتھ ہی کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ مسائل یوکرین کی علاقائی سالمیت کے ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے پُرامن انداز سے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق حل ہو سکتے ہیں۔

"ہم FETO کے خلاف جدوجہد میں یوکرینی حکام کے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہتے ہیں”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ وہ بنیادی ڈھانچے اور عظیم منصوبوں میں سرمایہ کاری پر کام تیز کرنے میں صدر زیلنسکی سے اتفاق کرتے ہیں، صدر ایردوان نے مزید کہا کہ "گفتگو کے دوران ایک اور اہم موضوع سکیورٹی کا شعبہ اور FETO کے خلاف جدوجہد رہا۔ اس ضمن میں ہم یوکرینی حکام کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہتے ہیں۔ خاص طور پر میرا ماننا ہے کہ ایسے متعدد اہم اقدامات ہیں جو وزارت تعلیم و سائنس یوکرین اور ترکی کی معارف فاؤنڈیشن کی جانب سے اٹھائے جانے ہیں۔”

یوکرین کے صدر زیلنسکی: "یوکرین کی علاقائی سالمیت کے حوالے سے تائید پر آپ کا شکر گزار ہوں”

یوکرین کے صدر ولادیمر زیلنسکی نے کہا کہ دونباس میں تنازعات، کریمیا کا مسئلہ اور دیگر معاملات گفتگو کے دوران موضوع بنے، اور انہوں نے یوکرین کی علاقائی سالمیت کے حوالے سے مسلسل حمایت پر ترکی کا شکریہ ادا کیا۔

صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے صدر ایردوان نے وزارت قومی دفاع اور امریکی وفد کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے ایک سوال پر کہا کہ فریقین ایک جوائنٹ آپریشن سینٹر کے قیام پر متفق ہو گئے ہیں اور اس کے قیام کے ساتھ ہی عمل وہیں شروع ہوگا۔

پریس کانفرنس کے بعد صدر ایردوان نے یوکرینی صدر کے اعزاز میں باضابطہ عشائیہ دیا۔

تبصرے
Loading...