جس حل میں ترکی اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص کو منصفانہ انداز میں شامل نہ کیا جائے، بحیرۂ روم میں امن قائم نہیں کر سکتا، صدر ایردوان

0 152

"بین الاقوامی بحری قوانین اور مشرقی بحیرۂ روم، تاریخ، سیاست اور بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں” کے عنوان پر ہونے والے ایک سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ہم بحیرۂ روم میں اپنے مسائل ایک دوسرے کو کاٹ کر نہیں بلکہ ایک ہی میز پر تمام علاقائی کرداروں کو اکٹھا کرکے ہی حل کر سکتے ہیں۔ کوئی بھی ایسا حل جس میں ترکی اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص کو منصفانہ انداز میں شامل نہ کیا جائے، بحیرۂ روم میں امن قائم نہیں کر سکتا۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے استانبول "بین الاقوامی بحری قوانین اور مشرقی بحیرۂ روم، تاریخ، سیاست اور بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں” کے عنوان سے ہونے والے سمپوزیم سے خطاب کیا۔

"ترکی ہر صورت حال میں آذربائیجان کے شانہ بشانہ رہے گا”

آذربائیجان پر آرمینیا کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے صدر ایردوان نے زور دیا کہ ترکی ہر صورت حال میں اپنے برادر اور دوست آذربائیجان کے شانہ بشانہ رہے گا۔

یہ نگورنو-قراباخ پر قبضے کی وجہ سے موجود بحران کے خاتمے کا بہترین وقت ہے، صدر نے خبردار کیا کہ "خطے میں امن اور سکون تبھی آ سکتا ہے جب آرمینیا بغیر کسی تاخیر کے لیے آذربائیجان کے مقبوضہ علاقے خالی کر دے۔ دیگر تمام باتیں اور دھمکیاں نہ صرف نامناسب اور غیر قانونی ہوں گی، بلکہ آرمینیا کو برباد کرتی رہیں گی۔”

صدر نے کہا کہ "خطے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت علاقے پر اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک کو موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ حل کے لیے حقیقت پسندانہ اور مناسب طریقے پیش کریں۔”

"آذربائیجان کو معاملہ اپنے ہاتھ میں لینا پڑے”

اس حقیقت کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہ امریکا، روس اور فرانس، جنہیں ملا کر منسک گروپ کہا جاتا ہے، 30 سالوں سے اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہے ہیں، صدر ایردوان نے کہا کہ انہوں نے مسئلے کو حل نہ کرنے کے لیے جو کچھ اختیار میں تھا کہا اور اس پر عمل کیا۔ اب وہ مشورے دے رہے ہیں اور وقتاً فوقتاً دھمکیاں بھی۔ یہ دھمکیاں کس بات کی ہیں؟ ‘کیا ترکی یہاں پر موجود ہے، کیا ترک فوجی یہاں موجود ہیں؟’ جو یہ سوال کر رہے ہیں وہ ہماری جنوب میں اسلحے سے بھرے ہزاروں ٹرک لے کر آئے ہیں، خاص طور پر شمالی شام میں۔ وہ بات کر رہے ہیں جو شمالی شام پر قابض ہیں اور وہاں اپنے لیے اڈے بنائے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں جو شام میں اتحادی طاقت کے ساتھ آزادانہ پھر رہے ہیں۔”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ مقبوضہ علاقے آذربائیجان کے ہیں اور 10 لاکھ سے زیادہ افراد قبضے کی وجہ سے اپنے علاقوں سے بے دخل کیے گئے، صدر ایردوان نے کہا کہ اس قبضے کے جو ذمہ دار ہیں ان سے اب تک سوال نہیں کیا گیا اور آذربائیجان کو ناچار معاملات اپنے ہاتھ میں لینا پڑے۔”

"ترکی بحیرۂ روم کا ملک ہے”

اس امر کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہ اس وقت بحیرۂ روم کا معاملہ کئی ملکوں کے ایجنڈے پر موجود ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ بین الاقوامی سیاست گزشتہ چند ماہ سے بحیرۂ روم کے گرد ہونے والی پیش رفت پر تشکیل دی جا رہی ہے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ بحیرۂ روم میں کوئی بھی قدم اور کوئی بھی پیشرفت ترکی کی سلامتی، حقوق اور مفادات سے براہ راست تعلق رکھتی ہے۔ "بلاشبہ مشرقی بحیرۂ روم میں موجود تیل و گیس کے ذخائر کا موضوع گرم ہے۔ چند محققین کا کہنا ہے کہ خطے میں موجود قدرتی گیس کے ذخائر 3.5 ٹریلین مکعب میٹر سے زیادہ ہیں۔ یہ یورپ کی قدرتی گیس کی سالہا سال کی ضروریات پوری کر سکتی ہے، اور اس کی معاشی اہمیت اتنی ہے کہ کوئی بھی ملک صرفِ نظر نہیں کر سکتا۔ چند ملکوں کی اشتعال انگیزی کے پسِ پردہ یہی معاشی فوائد ہیں۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "اس موقع پر اس حقیقت کو واضح کر دیں کہ یہ بالکل سطحی سوچ ہوگی کہ خطے میں ترکی کے مفادات کو محض توانائی ذخائر تک محدود کر دیا جائے۔ سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ ترکی بحیرۂ روم کا ملک ہے۔ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ ہم یہاں میزبان رہے ہیں، مہمان نہیں۔ پریویزا کی بحری فتح جس کا 482 واں جشن ہم نے ابھی کل ہی منایا ہے، بحیرۂ روم میں ہماری عرصہ دراز سے موجودگي کی روشن علامتوں میں سےایک ہے۔ 1538ء میں خیر الدین پاشا باربروس کی زیر قیادت اس عظیم فتح کے ساتھ ترکی نے بحیرۂ روم میں عرصے تک حکمرانی کی ہے۔ امن، سکون اور استحکام کا ایک دور جو صدیوں تک اس خطے میں قائم رہا اور انسانیت کی تاریخ میں کئی تہذیبوں کے لیے گہوارے کی حیثیت سے کام کیا۔ یہی دور تجارتی اور سیاسی پہلوؤں سے بھی بحیرۂ روم کا سنہرا دور تھا۔ یہی بلقان، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں بھی امن کے ادوار تھے۔”

"ترکی بحیرۂ روم میں امن و انصاف کے حق میں ہے”

سلطنت عثمانیہ کے زوال کے ساتھ ہی بحیرۂ روم میں امن کا دور بھی ختم ہوا اور نو آبادیات کو فروغ ملا، صدر نے کہا کہ "نوآبادیاتی ذہنیت، جو انسان کے خون سے زیادہ اہمیت تیل کے ایک قطرے یا سونے کے ایک گرام کو دیتی ہے، نے بحیرۂ روم کو امن و تہذیب کے سمندر سے خون پسینے کا سمندر بنا دیا۔ سامراج کے دور میں بحیرۂ روم میں تنازعات اور عدم استحکام پیدا ہوا اور حالیہ چند سالوں میں مہاجرین کی لاشیں اس کے ساحلوں سے ملیں۔ آج یہ تہذیب کاگہوارہ مہاجرین کا قبرستان بن چکا ہے۔”

"یہ ذہنیت جو، مغرب کی بڑائی کرتی ہے اور دیگر معاشروں کو چھوٹا کرکے پیش کرتی ہے، تہذیب کی جانی دشمن ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ حال ہی میں بحیرۂ روم میں کشیدگی بڑھانے والے بھی اسی ذہنیت کے نمائندہ ہیں۔

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی بحیرۂ روم میں امن کے ماحول کو بحال کرنا چاہتا ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ "ترکی بحیرۂ روم میں امن، تعاون، انصاف و شفافیت کے حق میں ہے، تناؤ کے نہیں۔ ہم جس طرح سامراج کی توسیع پسندی کے خلاف ہیں، اسی طرح ہم مشرقی بحیرۂ رمو میں بھی یک طرفہ نفاذ کے خلاف ہیں۔ مشرقی بحیرۂ روم ایک سمندر ہے جو ہمیں تقسیم کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے دوڑتا ہے اور ہمارے تعاون کو تقویت دیتا ہے، اس لیے اسے ایسا ہی رہنا چاہیے۔ مشرقی بحیرۂ روم اپنے ساحل کے ساتھ واقع تمام ممالک کے لیے ایک چھت اور ایک بڑے خاندان کے گھر کی حیثیت رکھتا ہے الجزائر سے مصر، لیبیا سے تونس، فلسطین سے اسرائیل، ترکی سے یونان اور اٹلی سے اسپین تک۔”

"مشرقی بحیرۂ روم کا معاملہ کثیر پہلوؤں کو ذہن میں رکھتے ہوئے حل ہونا چاہیے”

صدر نے کہا کہ "ہم بحیرۂ روم میں اپنے مسائل ایک دوسرے کو کاٹ کر نہیں بلکہ ایک ہی میز پر تمام علاقائی کرداروں کو اکٹھا کرکے ہی حل کر سکتے ہیں۔ کوئی بھی ایسا حل جس میں ترکی اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص کو منصفانہ انداز میں شامل نہ کیا جائے، بحیرۂ روم میں امن قائم نہیں کر سکتا۔ سب کو دیکھنا اور سمجھنا چاہیے کہ بحیرۂ روم میں امن و استحکام احمقانہ نقشوں اور مصنوعی منصوبوں کے ذریعے قائم نہیں ہو سکتا کہ جن کے ڈانڈے 19 ویں صدی کی نو آبادیات سے جا ملتے ہیں۔”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ مشرقی بحیرۂ روم کا مسئلہ کثیر پہلوؤں اور وسیع تناظر کو ذہن میں رکھنا ہوئے حل ہونا چاہیے، صدر ایردوان نے کہا کہ اس مسئلے کا گہرائی سے جائزہ لیے بغیر کسی درست اور شفاف حل تک نہیں پہنچا جا سکتا۔

صدر ایردوان نے کہا کہ پچھلے 20 سالوں میں یورپی یونین بھی ترکی اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہا۔

تبصرے
Loading...