صدر ایردوان کا مرکزی اپوزیشن جماعت پر ریٹائرڈ ایڈمرلز کے اعلامیہ پر پردہ ڈالنے کرنے کا الزام

0 1,215

صدر رجب طیب ایردوان نے بدھ کے روز مرکزی اپوزیشن ریپبلیکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ہفتہ کے روز 104 ریٹائرڈ ایڈمرلز کے دستخط کردہ اعلامیے کو وائٹ واش کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ اعلامیہ میں "واضح بغاوت کے جذبات” موجود ہیں۔

ہفتے کے آخر میں، بحریہ کے 104 ریٹائرڈ ایڈمرلز نے ایک ایسے "اعلامیے” پر دستخط کیے تھے جس سے حکومت کو انتباہ کیا گیا تھا کہ وہ مونٹریکس کنونشن سے اپنی وابستگی برقرار رکھے اور استنبول میں نئی نہر تعمیر کرنے کے منصوبوں کو ترک کرے۔

ایردوان نے حکمراں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (آق پارٹی) کے قانون سازوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے، "سی ایچ پی اس اعلان کو سفید کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس میں بغاوت کے جذبات ہیں۔

جمہوریت خلق پارٹی اس اعلامیے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے جس سے بغاوت کی بو آ رہی ہے۔ اس وقت ریٹائرڈ ایڈمرلز کے اندر فیصلہ ساز خود یہ پارٹی ہے اور 104 ریٹائرڈ ایڈمرلز میں اس کے اپنے ارکان موجود ہیں۔

اس اعلامیے کے خلاف سرکاری عہدیداروں اور عوام کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا جس میں جمہوری اداروں اور عوامی مرضی میں مداخلت کا اشارہ ملتا ہے۔

انقرہ پراسیکیوٹر جنرل نے بھی ترک تعزیرات کوڈ کے آرٹیکل 316/1 کی بنیاد پر تفتیش کا آغاز کیا ہے۔ ایک بیان میں، پراسیکیوٹر کے دفتر نے کہا کہ 10 مشتبہ افراد کو تحویل میں لیا گیا ہے تاکہ شواہد نہ مٹائے جا سکیں اور واقعے میں ملوث دیگر مشتبہ افراد کا تعین کیا جا سکے، جبکہ چار دیگر مشتبہ افراد کو ان کی عمر کی وجہ سے حراست میں نہیں لیا گیا تھا لیکن انہیں 3 دن کے اندر انقرہ پولیس ڈائریکٹوریٹ کو رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ 10 ریٹائرڈ ایڈمرلز کو ان شکوک و شبہات پر تفتیش کے ایک حصے کے طور پر حراست میں لیا گیا تھا کہ وہ "ریاست کی سلامتی اور آئینی حکم کے خلاف کسی جرم کا ارتکاب کرنے کے مقصد” کے ایک معاہدہ میں شامل ہوئے ہیں۔

مونٹریکس کنونشن 1936ء کا معاہدہ ہے جو ترکی کو باسپورس اور داردنیلاس پر کنٹرول فراہم کرتا ہے اور بحری جنگی جہازوں کی آمدورفت کو منظم کرتا ہے۔ یہ کنونشن امن کے اوقات میں سویلین جہازوں کے مفت گزرنے کی ضمانت دیتا ہے اور ان بحری جہازوں کے گزرنے پر پابندی عائد کرتا ہے جن کا تعلق بحیرہ اسود سے منسلک ریاستوں سے نہ ہو۔

معاہدہ لوزان، جس پر ترکی اور پہلی جنگ عظیم کے اتحادیوں برطانیہ، فرانس، اٹلی، جاپان، یونان اور رومانیہ کے مابین 1923 میں معاہدہ ہوا تھا – اس سے ترک جنگ آزادی کا خاتمہ ہوا تھا اور اس کی شکست کے بعد عثمانی حکومت پر سیوریس کا ذلت آمیز معاہدہ تھوپ دیا گیا تھا جس میں ترکی کی نئی سرحدوں کا تعین کیا گیا تھا۔

تبصرے
Loading...