کیا اس بار رجب طیب ایردوان کا جیتنا مشکل تو نہیں؟

0 3,437

ترکی کی تاریخ میں صدر کے عہدے کی حیثیت مختلف ادوار میں بدلتی رہی ہے۔ 1923ء میں جمہوریہ ترکی بننے کے بعد پارلیمنٹ کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ ممبران اسمبلی کے ووٹوں سے پانچ سال کے لیے صدر کا انتخاب کرے گی۔ 1961ء کے بعد یہ نظام بہت حد تک بدل گیا جب صدر کے عہدے کو مکمل طور پر علامتی بنا دیا گیا جیسا کہ جرمن نظام میں ہے۔ وزیر اعظم کو ایگزیکٹو سربراہ بنایا گیا لیکن یہ نظام صرف بیس سال (1961ء سے 1981ء) تک ہی چل سکا۔ اس دور میں مشکل سے ہی کہا جا سکتا ہے کہ نظام ٹھیک سے چلتا رہا۔ عمومی طور پر ریٹائرڈ فوجی جرنیلوں کو منتخب کیا جاتا رہا۔ جمال گورسل اور جویدت سنے اس میں بہترین مثالیں ہیں۔ پھر فخری کوروترک جو ریٹائرڈ ایڈمرل تھے اور لبرل خیال رکھتے تھے انہیں 1973ء کے فساد کے بعد اس عہدے پر بٹھایا گیا۔

1980ء کے فوجی مارشل لاء نے ایک بار اس فوجی نظام کو ہی بدل دیا جب مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کنان ایوران ایک نام نہاد ریفرنڈم کے ذریعے صدارتی عہدے پر بیٹھ گئے۔ اور آئین کو بدل کر تمام اختیارات صدر کو دے دئیے گئے۔

کنان کے بعد دو سویلین صدور ترگت اوزال اور سلیمان دیمرل بھی پارلیمنٹ نے منتخب کئے۔ دیمرل کے بعد اتحادی جماعتوں نے سابق جج احمد نجادت سیزر کو منتخب کروایا۔ وہ ایک غیر سیاسی شخصیت تھے اور ان کے دور میں نظام میں کوئی ہلچل پیدا نہ ہوئی۔ پھر عبد اللہ گل آتے ہیں۔ جب عبد اللہ گل کو امیدوار بنایا گیا تو پرانی اشرافیہ اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اس روکنے کی کوشش کی۔ وہی اشرافیہ جس نے پارلیمنٹ میں پہلی اسکارف رکن کی آمد پر سخت ردعمل دیا تھا۔ انہوں نے اس وقت کے وزیر اعظم رجب طیب ایردوان کو کہا کہ وہ فوری طور پر اقتدار سے علیحدہ ہو جائے۔ رجب طیب ایردوان نے اپنی سیاسی بصیرت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے سابق صدر کی مدت میں چند ماہ اضافہ کر دیا اور براہ راست عوامی ووٹوں سے صدر کو منتخب ہونے کا آئیڈیا پیش کر دیا۔ جسے عوامی ریفرنڈم کے ذریعے ہی منظور کروا لیا گیا۔

پھر 2014ء میں دو مراحل پر مشتمل صدارتی انتخاب کو عملا لاگو کیا گیا۔ جیسا کہ فرانسیسی نظام میں ہے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان نے پہلے مرحلے میں ہی 51 فیصد ووٹ حاصل کر کے یہ معرکہ مار لیا۔ ان کے مقابلے میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے ایک اچھے امیدوار کو کھڑا کیا اکمل الدین احسان اولو، وہ دائیں بازو کی شخصیت تھے اور ایک بہترین امیدوار تھے (حالیہ انتخابات 2018ء میں ترک صدر ایردوان کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں)۔ مشترکہ امیدوار لانے کا آئیڈیا اس نظام میں اچھا ثابت نہیں ہوتا کیونکہ عملی طور پر ایردوان کو 51 فیصد حاصل کرنے میں آسانی ہوئی۔ دوسری طرف ایچ ڈی پی جس نے اپنا علیحدہ امیدوار کھڑا کیا تھا اور سابقہ انتخابات میں صرف 6 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے 2014ء کے صدارتی انتخابات میں 9 فیصد ووٹ لینے میں کامیاب ہو گئی۔ اس کا صاف مطلب تھا کہ اگر اپوزیشن جماعتیں اپنے اپنے امیدوار سامنے لاتیں تو زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتیں اور صدر ایردوان کو 50 فیصد سے زیادہ لینا مشکل ہو جاتا۔

اب کی بار اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ امیدوار لانے میں ناکامی کے بعد اپنے اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ ترک صدر ایردوان کے ساتھ ملی حرکت پارٹی ہے لیکن اس کی کوکھ سے اچھی پارٹی (IYI Parti) بھی جنم لے چکی ہے۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ ملی حرکت پارٹی اب پہلے جیسی پارٹی نہیں رہی۔ اس نے 2015ء کے انتخابات میں 12 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے۔ اب اس کے پانچ ممبران اسمبلی اچھی پارٹی بنا چکے ہیں۔ اس کے باوجود رجب طیب ایردوان بہتر پوزیشن میں ہیں کہ پہلے مرحلے میں ہی 50 فیصد سے زائد ووٹ حاصل لیں۔ لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہے جتنا 2014ء میں تھا۔

اب اگر کوئی امیدوار پہلے مرحلے میں 50 فیصد ووٹ حاصل نہیں کر پاتا تو دوسرے مرحلے زیادہ ووٹ لینے والے پہلے دو امیدواروں میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جائے گا۔ یہاں ووٹرز میں دائیں اور بائیں کی ایک حقیقی تقسیم نظر آتی ہے۔ اگر کنزرویٹو اور سنٹر رائٹ میں تقسیم ہوئی تو یہ ایردوان کے مخالف امیدوار کو فائدہ دے گی۔

آمدہ انتخابات میں رجب طیب ایردوان کی صلاحتیوں کا ایک اور امتحان ہے کہ وہ کیسے اپنے حامیوں کو تحریک دیتے ہیں۔ اگر وہ پہلے مرحلے میں ناکام بھی ہو جائیں تو دوسرے مرحلے میں آق پارٹی کے لیے امکانات روشن ہیں کیونکہ ترکی کا 70 فیصد سے زائد ووٹر دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے۔ اس کے باوجود پہلا مرحلہ ابتدائی اہمیت کا حامل ہے۔

تبصرے
Loading...