ایردوان اور رمضان – ضیا چترالی

0 3,662

افطار سے چند منٹ پہلے ترک دارالحکومت انقرہ کے ایک غریب علاقے میں واقع مزدور کے گھر کی گھنٹی بجتی ہے۔ گھر کے مالک 53 سالہ ”یلدریم جلیلک“ جب دروازہ کھول کر دیکھتے ہیں تو ان کی حیرت کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا، انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آتا، وہ دیکھتے ہیں کہ دروازے پر ملک کے صدر رجب طیب ایردوان اور ان کی اہلیہ امینہ ایردوان کھڑے ہیں۔ یلدریم جلیلک کی حیرت کو بھانپتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان انہیں تسلی دے کر کہتے ہیں کہ آج ہم آپ کے مہمان ہیں، آپ کی فیملی کے ساتھ افطار کریں گے۔ یہ سن کر میزبان خوشی سے پھولے نہیں سماتا۔ وہ فوراً واپس جا کر اپنے گھر والوں کو ایک عظیم مہمان کی آمد کی خوشخبری سناتا ہے۔

غریب یلدریم کے اہل خانہ نے اپنے محدود وسائل کے مطابق افطار کا معمولی انتظام کر رکھا تھا۔ گھر کے 8 افراد دسترخوان پر بیٹھے تھے اور افطار کے لئے کھجور، پانی، دودھ اور سنگترہ کے علاوہ دسترخوان پر اور کچھ نہیں تھا۔ اس لئے اہل خانہ کے چہروں پر عظیم مہمان کی آمد پر خوشی کے ساتھ ساتھ پریشانی کے آثار بھی نمایاں تھے۔ مگر صدر ایردوان اور ان کی اہلیہ امینہ بلا کسی تکلف کے یلدریم کے اہل خانہ کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ کر دعاؤں میں مصروف ہو گئے۔ یلدریم کے اہل خانہ کو بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ صدر ایردوان اور ان کی اہلیہ ان کے گھر میں موجود اور ان کے ساتھ افطار میں شریک ہیں۔ یہ ناقابل یقین منظر دیکھ کر یلدریم جلیلک اور ان کے اہل خانہ کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو نکل آئے اور انہوں نے صدر ایردوان اور ان کی اہلیہ کو کھلے دل سے خوش آمدید کہا۔

ترک پریس کے مطابق یلدریم جلیلک انقرہ کے علاقے ”اولوس“ کی سبزی منڈی میں محنت مزدوری کرتے ہیں اور انہیں یومیہ 60 لیرہ (ترک کرنسی) دیہاڑی ملتی ہے، جو کہ 22 امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ یلدریم کے گھر میں ترک صدر کی آمد کے بعد یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہیں، جس کا کرایہ وہ ماہانہ 360 لیرہ ادا کرتے ہیں، جو کہ 135 امریکی ڈالر یا ساڑھے 13 ہزار پاکستانی روپے کے برابر ہے۔ افطار کے بعد صدر ایردوان اور ان کی اہلیہ یلدریم کے اہل خانہ کے ساتھ گھل مل گئے اور ان سے ان کے مسائل بھی پوچھے۔ یلدریم نے صدر ایردوان کو بتایا کہ ان کے 5 بچے ہیں، چونکہ ان کی آمدنی بہت محدود ہے، اس لئے وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں تعلیم دلوا رہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پانچویں روزے کے دن افطار کے وقت صدر ایردوان یلدریم کے مہمان بنے، اسی روز یلدریم کے سب سے چھوٹے بیٹے کی روزہ کشائی بھی تھی۔ اس موقع پر اچانک صدر مملکت کی آمد نے یلدریم کے اہل خانہ کی خوشیوں کو دوبالا کر دیا۔ صدر ایردوان نے پہلا روزہ رکھنے پر یلدریم کے بچے کو نقد انعام کے ساتھ قیمتی تحائف بھی دیئے، جس پر یلدریم کے دیگر بچوں نے للچائی نظروں سے صدر ایردوان کو دیکھا تو انہوں نے گھر کے دیگر بچوں کو بھی ایک ایک لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ سے نوازا۔

افطار کے بعد یلدریم کے گھر سے رخصت ہونے سے پہلے ان کے پڑوسیوں کو بھی صدر ایردوان کی اچانک آمد کا پتہ چل گیا تھا۔ اس لئے یلدریم کے بہت سارے پڑوسی بھی ان کے گھر میں جمع ہوگئے اور صدر ایردوان کے ساتھ عشاء کی نماز تک طویل نشست کی اور انہیں اپنے مسائل سے آگاہ کیا۔ اس دوران صدر ایردوان کے سیکریٹری سمیت کچھ سرکاری عہدیدار بھی یلدریم کے گھر پہنچ چکے تھے۔

ترک پریس کے مطابق، رجب طیب ایردوان اور ان کی اہلیہ نے اپنی پہلی افطار ترکی میں قائم پناہ گزیں کیمپوں میں مقیم شامی مہاجرین کے ساتھ کی تھی، اس کے بعد انہوں نے غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کے ساتھ افطار کرنے کا معمول بنا لیا ہے۔ اب تک وہ افطار کے وقت پانچ مرتبہ غریبوں کے مہمان بن کر ان کے ساتھ افطار میں شریک ہوئے ہیں۔ صدر ایردوان اور ان کی اہلیہ افطار سے کچھ دیر پہلے اپنی گاڑی میں صدارتی محل سے نکل کر شہر کے کسی متوسط یا غریب علاقے کا رخ کرتے ہیں، جہاں وہ کسی بھی شہری کے گھر کا دروازہ بجاتے ہیں اور اہل خانہ کے ساتھ مل کر افطار کرتے ہیں۔ اس دوران صدر ایردوان اہل خانہ سے ان کے مسائل پوچھ کر انہیں حل کرتے ہیں۔

تبصرے
Loading...