صدر ایردوان اور امریکی صدر بائیڈن 14 جون کو ملاقات کریں گے

0 950

ترک صدر رجب طیب ایردوان کی امریکی صدر جوبائیڈن کے ساتھ اہم ترین ملاقات 14 جون کو براسلز میں ہونے والی نیٹو سمٹ میں شیڈول کی گئی ہے اور اس کے ترکی کی نہ صرف خارجہ پالیسی اور سرگرمیوں بلکہ اندرونی سیاست پر بھی اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ترک وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ صدر رجب طیب ایردوان اور ان کے امریکی ہم منصب جوبائیڈن کی ملاقات کے لیے ہم ایک مثبت ایجنڈا تک پہنچ رہے ہیں اور ہمیں اسی طرح کے احساسات واشنگٹن سے بھی موصول ہوئے ہیں۔ ترک وزیرخارجہ میولوت چاوش اولو نے بتایا ہے کہ امریکہ، لیبیا اور شام میں ترکی کی مدد کرنا چاہتا ہے تاہم بحیرہ روم سے بحیرہ اسود اور قفقاس کے علاقوں میں بھی باہمی تعاون کا خواہاں ہے۔

جہاں باہمی تعاون کی خواہشات کا ذکر کیا گیا وہیں کچھ ایسے موضوعات بھی ہیں جہاں ترکی اور امریکہ ایک دوسرے کے سامنے نظر آتے ہیں۔ امریکہ کو ترکی کی طرف سے روسی فضائی دفاعی نظام خریدنے پر اعتراض ہیں جبکہ ترکی کہتا ہے کہ اگر امریکہ نے پیٹریاٹ طیاروں کی گارنٹی نہ دی تو وہ اپنے دیگر اتحادیوں کی طرف رخ کر لے گا۔ ترک وزیر خارجہ کا اس کے باوجود کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ مسٹر بائیڈن کے ساتھ ہونے والی میٹنگ ترکی اور امریکہ کے نئے دور کا نقطہ آغاز بنے گی۔

گذشتہ ماہ ترک صدر ایردوان اور امریکی صدر بائیڈن اپنے پہلے ٹیلی فونک رابطے میں اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ وہ نیٹو سمٹ کے دوران ایک ملاقات کی نشت پر بیٹھیں گے۔ یہ ملاقات اس لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے ترک صدر ایردوان بارے انتخابی مہم میں انتہائی سخت ریمارکس دئیے تھے اور اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آ کر ترکی کی اپوزیشن کی مدد کریں گے اور انتخابی عمل کے ذریعے ایردوان کے اقتدار کے خاتمہ کر دیں گے۔

اس سے قبل 2018ء میں بھی ترکی اور امریکہ کے تعلقات اس لیے خراب ہو گئے تھے جب ترک حکومت نے ایک پادری کی رہائی کے لیے امریکی خواہش کو مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اس کا فیصلہ ترک عدالت ہی کرے گی۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 24 گھنٹے کی ڈیڈ لائن پر کان نہ دھرے گئے لیکن ٹرمپ نے 24 گھنٹے گزرنے کے بعد ترکی کی امریکہ میں آنے والے برآمدات پر بھاری ٹیکس عائد کر دیا جس سے نہ صرف ترک مارکیٹ کو دھچکا لگا بلکہ ترکی کی کرنسی ایردوان کے دور حکومت میں پہلی بار کریش ہونے کے قریب پہنچ گئے۔ صدر ایردوان اور ترک عوام نے اس پر سخت ردعمل دیا حتکہ کہ ڈالر تک جلا ڈالے۔ تعلقات کی یہی خرابی وجہ بنی کہ ترکی نے روس سے ایس 400 دفاعی نظام خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس فیصلے نے امریکہ کی دم پر پاؤں رکھ دیا، امریکہ نے ترکی کو ایف 35 ہلکے جیٹ طیاروں کے مشترکہ پروگرام سے باہر نکال دیا اور منصوبے میں شامل ترک ٹیم کو ملک بدر کر دیا۔ امریکہ کے ساتھ ساتھ اس روسی نظام پر یورپی یونین کو بھی اعتراض ہیں تاہم ترکی کا موقف ہے کہ اس نظام سے یورپ کو کوئی خطرہ نہیں ہو گا، اس کا قطعی مقصد ترکی کا فضائی تحفظ ہے۔

ان تنازعات اور دوریوں کے باوجود صدر ایردوان اور صدر بائیڈن کی ملاقات سے امیدیں وابسطہ ہیں کہ اس سے ترک امریکن تعلقات کے مستقبل کا تعین ہو سکے گا۔ صرف ترک حکومت ہی نہیں، امریکی انتظامیہ بھی اسی طرح کی توقعات وابسطہ کر رہی ہے۔ گذشتہ روز وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی نے میڈیا کو بتایا کہ ترک صدر رجب طیب ایردوان کے ساتھ ملاقات صدر جوبائیڈن کی ترجیحات کا حصہ ہے۔ کیونکہ یہ ایردوان اور بائیڈن کی فیس ٹو فیس ڈپلومیسی کا ایک اہم ترین موقع ہو گا۔ جین ساکی نے اس موقع پر کہا کہ ترکی ہمارا نیٹو اتحادی ہے اور جہاں امکانات موجود ہوں وہاں اس کے ساتھ مثبت تعاون جاری رکھنا ہمارے لیے بہت اہم ہے اور یہ ملاقات اس معاملات کے حوالے سے بھی اہم ہے جہاں ہمارا باہمی اتفاق موجود نہیں ہے۔ ساکی نے ایجنڈا کے حوالے سے بتایا کہ دونوں رہنماء علاقائی سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ عالمی کمیونٹی سے جڑے موضوعات، معیشت اور کورونا وائرس وباء پر بھی بات کریں گے۔

امریکی صدر 10 جون کو برطانوی وزیراعظم بورس جانسن، 13 جون کو ملکہ ایلزبیتھ دوم جبکہ 14 جون کو ترک صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات کریں گے۔ دیکھتے ہیں کہ اس ملاقات کے بعد ایردوان اور جوبائیڈن کو ورکنگ ریلیشنپ بن سکتا ہے یا جوبائیڈن ابھی بھی ایردوان کے اقتدار کا خاتمہ کرنے کے اپنے عزم پر قائم رہتے ہیں۔

تبصرے
Loading...