یورپی یونین میں ہماری شمولیت ہی پریشان کن کیوں؟ صدرایردوان

0 2,196

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے یورپی یونین کی جانب سے یوکرائن کو بلاک میں شامل کرنے کیلئے دی گئی درخواست کو قبول کرنے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین کو یوکرائن کی طرح ترکی کی ممبرشپ پر بھی حساسیت دکھانا چاہیے۔

دارالحکومت انقرہ میں کوسوو کے صدر وجوسا عثمانی کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں یوکرائن کی یورپی یونین کی رکنیت بارے میں پوچھے جانے پر، صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی، جو دہائیوں سے یورپی یونین کا امیدوار ہے، نیٹو اور یورپی یونین کی کسی بھی توسیع کی حمایت کرے گا۔

انہوں نے کہا، "ہم یوکرائن کی یورپی یونین کی رکنیت حاصل کرنے کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ لیکن میں یورپی یونین کے اراکین سے پوچھتا ہوں کہ ترکی کی یورپی یونین میں رکنیت آپ کو کیوں پریشان کرتی ہے؟”۔

انہوں نے بلاک سے مطالبہ کیا کہ وہ ترکی کی درخواست پر "وہی حساسیت” ظاہر کرے جو اس نے کیف کی رکنیت کی درخواست کے لیے دکھائی ہے، انہوں نے رکن ممالک کو ترکی بارے "مخلص نہ ہونے” پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

"جب کوئی (ہم) پر بھی حملہ کرے گا تو کیا آپ ترکی کو تب اپنے ایجنڈے پر رکھیں گے؟” انہوں نے کہا۔

پیر کے روز، یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے یوکرائن کے یورپی یونین سے "فوری الحاق” کا مطالبہ کیا تھا۔

زیلنسکی نے قوم سے خطاب میں کہا کہ "ہم یورپی یونین سے ایک نئے خصوصی طریقہ کار کے تحت یوکرائن کے فوری الحاق کا مطالبہ کرتے ہیں۔”

ترکی یورپی یونین میں شمولیت کا امیدوار ہے لیکن اس کے الحاق کی بات چیت کئی معاملات پر تعطل کا شکار ہے۔ ترکی نے 1987ء میں یورپی یونین کی رکنیت کے لیے درخواست دی، اور الحاق کی بات چیت 2005ء میں شروع ہوئی۔ لیکن قبرص کے منقسم جزیرے پر یونانی قبرصی انتظامیہ کے اعتراضات کے ساتھ ساتھ جرمنی اور فرانس کی مخالفت کی وجہ سے 2007ء میں مذاکرات رک گئے۔

منگل کو، یورپی پارلیمنٹ نے بلاک کے آٹھ ممالک — بلغاریہ، چیک ریپبلک، ایسٹونیا، لٹویا، لتھوانیا، پولینڈ، سلووینیا، اور سلوواکیا — نے زیلنسکی کی کال کی حمایت کا اظہار کرنے کے ایک دن بعد یوکرائن کے لیے یورپی یونین کی امیدواری کا مطالبہ کرنے والی قرارداد منظور کر لی۔

صدرایردوان نے ایک بار پھر یوکرائن اور روس پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر لڑائی بند کریں اور "عالمی امن کے لیے کردار ادا کریں۔”

"روس اور یوکرین دونوں سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ جلد از جلد سیز فائر کر دیں،” صدر ایردوان نے ماسکو اور کیف دونوں سے "عالمی امن کے لیے اچھا کردار ادا کرنے” کا مطالبہ کیا۔

صدر ایردوان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ترکی، جس کے پاس اتحاد میں دوسری بڑی فوج ہے، نیٹو کی توسیع کی حمایت کرتا ہے۔

نیٹو رکن ترکی، یوکرائن اور روس کے ساتھ سمندری سرحدیں رکھتا ہے اور دونوں کے ساتھ اس کے بہت اچھے تعلقات موجود ہیں۔ 1936ء کے ایک معاہدے کے تحت، ترکی نے پیر کو وارننگ جاری کی ہے کہ وہ یوکرائن پر روس کے حملے کے دوران بحیرہ اسود کے اپنے آبنائے بند کر سکتا ہے، جس سے بحیرہ روم کی طرف کچھ روسی بحری جہازوں کے گزرنے کو محدود کیا جا سکتا ہے۔

 

گزشتہ جمعرات کو یوکرائن کے خلاف روس کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے، اسے عالمی برادری کی طرف سے غم و غصے کا سامنا کرنا پڑا ہے، یورپی یونین، برطانیہ اور امریکہ نے روس پر متعدد اقتصادی پابندیاں عائد کیں ہیں۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، اب تک یوکرائن میں 13 بچوں سمیت کم از کم 136 شہری ہلاک اور 26 بچوں سمیت 400 دیگر زخمی ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی نے منگل کو بتایا کہ لگ بھگ 660,000 افراد نے یوکرائن سے ہمسایہ ممالک میں نقل مکانی کی ہے۔

کوسوو کی نیٹو کی ممکنہ رکنیت بارے بات کرتے ہوئے، صدرایردوان نے کہا کہ انقرہ بلقان ملک کو نیٹو رکن کے طور پر تسلیم کرانے کے لیے اقدامات اٹھائے گا۔

"ہم نے ہمیشہ وکالت کی ہے اور اب بھی اس بات کی وکالت کرتے ہیں کہ نیٹو کو وسعت دینا خطے میں امن لانے کے لیے فائدہ مند ہوگا،” انہوں نے مزید کہا کہ ترکی یہ "عالمی امن کے لیے” چاہتا ہے تاکہ طاقت کا توازن قائم رہے اور جنگوں سے بچا جا سکے۔

فیتو گرفتاریوں کے بعد کوسوو وزیر اعظم کی طرف سے وزیر داخلہ اور انٹیلی جنس چیف برطرف، ایردوان کی سخت تنقید

 

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: