جب وہ بغاوت میں ناکام ہوتے ہیں تو عدالتوں کے ذریعے چالیں چلتے ہیں، ایردوان

0 297

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے ریزا سراف کیس (ایک ترک بزنس مین جو امریکی جیل میں ہے اور اس پر کیس چل رہا ہے) کو ترکی میں 17 سے 25 دسمبر 2013ء کی سازش کے ہم پلہ قرار دیا ہے جس کا نشانہ حکومتی ورزاء اور بڑے بزنس مین بنائے گئے۔

آق پارٹی کے ممبران اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ کا ایک خطرناک پلاٹ آج سے چار سال پہلے ترکی میں کھیلا گیا۔

ترک صدر اس گرافٹ جانے نام نہاد تحقیقات کا حوالہ دے تھے جس کے ذریعے حکومتی وزراء اور اس کے بڑے حامیوں پر کیس چلا کر حکومت سے محروم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ 17 سے 25 دسمبر 2013ء کو اس ضمن میں بڑی ایم شخصیات کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارے گئے اور بہت سوں کو گرفتار کیا گیا۔

حکومت نے اس سازش کو امریکا میں مقیم فتح اللہ گولن سے منسوب کیا جو ادارے میں موجود اپنے حامیوں کے مدد سے حکومت پر حملہ آور ہو رہا تھا- فتح اللہ گولن وہی شخص ہے جس نے بعد میں اپنی فوجی پیروکاروں کی مدد سے حکومت گرانے کی کوشش کی جو ترک عوام نے تاریخ ساز مزاحمت کے بعد ناکام بنا دی۔ اس ناکام بغاوت میں 254 افراد شہید جبکہ 2200 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

ترک صدر نے کہا کہ جب وہ پلاٹ ناکام ہو گیا تو ویسی ہی چال اب امریکا میں بیٹھ کر چلائی جا رہی ہے،

سراف کو گزشتہ سال فراڈ اور امریکا کی ایران پر عائد پابندیاں توڑنے کا الزام لگا کر گرفتار کیا گیا تھا۔

ترکی نے حال ہی میں دو امریکا وکلاء کے خلاف تحقیقات شروع کی ہیں جس میں ایک سابق جبکہ دوسرا موجودہ اٹارنی جنرل ہے۔ جو دونوں نیو یارک میں ترک شہریوں کے خلاف مقدمات بنا رہے ہیں۔

استنبول کے پبلک پرازیکیوٹر نے گزشتہ ہفتے سابق امریکی اٹارنی جنرل پریت بھرارا اور موجود اٹارنی جنرل جون کم کے خلاف الزام عائد کیا ہے کہ وہ 2013ء کے کیس کا مواد اور ڈاکومنٹ امریکا میں جاری مقدمات کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

 

 

 

تبصرے
Loading...