ادلب میں بشارالاسد کے فضائی حملہ میں 22 ترک فوجی شہید، ایردوان کا ہنگامی اجلاس، بڑے فیصلے لینے کا وقت آ گیا

0 3,414

شام کے شمال مغربی صوبے ادلیب پر بشار اسد حکومت کے فضائی حملے میں 22ترک فوجی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ یہ بات سرحدی شہر ہتائے کے گورنر راہمی دوعان نے جمعرات کی شام کو میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتائی۔

اس سے قبل اسی روز صدر رجب طیب ایردوان نے جنگ سے تباہ حال شامی شہر میں کشیدگی پر ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں نیشنل انٹلیجنس آرگنائزیشن (MİT) کے سربراہ حقان فیدان سمیت تمام وزراء اور سینئر عہدیدار شریک تھے۔

دریں اثناء ، نظامت مواصلات نے شامی حکومت کی افواج کے خلاف ترکی کی کارروائی سے متعلق بیان جاری کیا۔

اس میں کہا گیا ہے کہ ترک افواج نے کم از کم 1،709 اسد حکومت کے فوجیوں کے ساتھ ساتھ 55 ٹینک ، تین ہیلی کاپٹر ، 18 بکتر بند گاڑیاں ، 29 ہاویٹرز ، 21 فوجی گاڑیاں ، چھ گولہ بارود ڈپو ، سات مارٹر اور سوویت ساختہ چار ڈی ایس ایچ کے بھاری مشین گنوں کو تباہ کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اعلی سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ شامی پناہ گزینوں کو زمینی اور سمندری راستے سے یورپ پہنچنے سے روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جبکہ روس کے ساتھ ادلب میں تعاون ختم کرنے پر کل پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ سیکیورٹی اجلاس میں ملک بھر کو ہائی الرٹ کر دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے، پولیس، کوسٹل گارڈز اور سرحدی فورس کی چھٹیاں منسوخ کرتے ہوئے، نئے احکامات کے مطابق ڈیوٹی سرانجام دینے کا حکم دیا گیا ہے۔

ستمبر 2018 میں ، ترکی اور روس نے ادلب کو امن زون میں تبدیل کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس میں جارحیت کی کارروائیوں کی واضح طور پر ممانعت کی گئی تھی۔

لیکن اس وقت سے اب تک جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جارہی ہے، اس وقت سے امن زون میں اسدی حکومت اور روسی افواج کے حملوں میں 1300 سے زیادہ شہری شہید ہوچکے ہیں۔

شدید حملوں کی وجہ سے 10 لاکھ سے زائد شامی شہری ترک سرحد کے قریب منتقل ہوگئے ہیں۔

تبصرے
Loading...