صدر ایردوان شرحِ سود کے معاملے پر ثابت قدم

آڈٹ بورڈ غیرملکی زرِ مبادلہ کی خریداری کی تحقیقات کرے گا

0 1,235

صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے نظریے پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر حالیہ مالیاتی تخفیف کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے شرحِ سود میں اضافے کی کبھی حمایت نہیں کی اور نہ کریں گے اور اس معاملے پر کوئی سودے بازی نہیں ہوگی۔

صدر ایردوان نے یہ بھی کہا کہ شرحِ تبادلہ میں تیزی سے آنے والی حالیہ کمی بیشی اقتصادی بنیادوں پر نہیں تھی اور انقرہ قومی بینک جیسے اداروں کے ذریعے سرمایہ کاریوں کو بہتر بنانے کے لیے ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے تیار تھا۔

ایک علیحدہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ترکی کا سب سے اہم تحقیقاتی ادارہ نومبر میں ترک لیرا کی قیمت گرنے کی وجوہات کی تحقیقات کے سلسلے میں غیر ملکی کرنسی کی خریداری پر نظر رکھے گا۔

لیرا سوموار کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں 12.85 تک گر گیا تھا اور پھر منگل کو 13.45 کی ریکارڈ کم ترین سطح تک پہنچا ہے۔

تیزی ہونے والی ہونے والی یہ کمی بیشی مرکزی بینک کی جانب سے پالیسی شرح میں 100 بیسس پوائنٹ کی کمی کے بعد سامنے آئی ہے جو 18 نومبر کو 15 فیصد کی گئی تھی اور سال کے اختتام سے قبل اس میں مزید کمی کا اشارہ بھی دیا گیا تھا۔ اب یہ ستمبر کے مقابلے میں 400 بیسس پوائنٹس گھٹ چکی ہے۔

ترکمنستان کے دورے سے واپس آتے ہوئے دورانِ پرواز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "میں ہمیشہ سے کم شرحِ سود کا قائل رہا ہوں اور بار ہا کہا ہے کہ اس شرح کو کم ہونا چاہیے۔”

صدر نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنے خیالات نہیں بدلے کہ شرحِ سود افراطِ زر کی وجہ ہے۔

حزب اختلاف کے سیاست دان اور چند اقتصادی ماہرین نے موجودہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے اسے چیلنج کیا ہے اور واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر میں سال بہ سال کی بنیاد پر سالانہ افراط زر میں 19.89 فیصد کا اضافہ ہوا، جو اشیائے خورد و نوش، خدمات، تعمیرات اور نقل و حمل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہوا، جس کا اظہار دنیا بھر میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں بھی ہو رہا ہے۔

مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ مختصر مدت میں افراطِ زر کا سبب بننے والے عارضی عوامل 2022ء کی پہلی شش ماہی میں بھی برقرار رہنے کی توقع ہے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ "آپ دیکھیں گے کہ ان شاء اللہ انتخابات سے پہلے افراطِ زر کی شرح میں کتنی کمی آتی ہے۔”

صدر نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ترکی "اقتصادی جنگِ آزادی” لڑ رہا ہے اور وہ اس راستے سے ہٹنے کے لیے کوئی دباؤ قبول نہیں کرے گا۔

انہوں نے لیرا کی قدر گھٹنے کی وجہ ان سازشوں کو قرار دیا جو غیر ملکی زر مبادلہ اور شرحِ سود کے حوالے سے کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ہم دیکھ رہے ہیں کہ شرحِ تبادلہ، شرحِ سود اور قیمتوں میں اضافے پر ان حلقوں کی جانب سے کون سے کھیل کھیلے جا رہے ہیں جو ملک کا توازن بگاڑنا چاہتے ہیں۔”

اختتامِ ہفتہ پر صدر ایردوان نے کرنسی میں ساز باز کی تحقیقات کا بھی حکم دیا تھا۔ صدر نے آڈٹنگ ایجنسی اسٹیٹ سپروائزری کونسل کو کہا ہے کہ وہ ان اداروں کا پتہ چلائے جنہوں نے غیر ملکی کرنسی بڑی تعداد میں حاصل کی اور اندازہ لگائے کہ اس معاملے میں کہیں ساز باز تو نہیں ہوئی اور اس کی اطلاع ایوانِ صدر کو دے۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: