امریکا کے ترک وزیر کے خلاف اقدامات مکمل طور پر سیاسی ہیں، ایردوان

0 153

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اتا ترک ائیرپورٹ پر کاغزقستان روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: "15جولائی کے بعد کسی بھی ریاست کا پہلا سربراہ جو ترکی آیا وہ میرے عزیز بھائی، مسٹر نذربیاف تھے- ہم کاغزقی عوام کی اس حمایت کو نہیں بھول سکتے- کاغزقستان ہماری فتح اللہ گولن دہشتگرد تنظیم کے خلاف جنگ میں ساتھی ہے”-

صدر ایردوان نے کہا کہ وہ اس دورہ میں دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات اور ترکی کاغزقستان تعاون کی مضبوطی پر بات چیت کریں گے-

انہوں نے مزید کہا کہ وہ علاقائی اور عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کے علاوہ مختلف شعبوں میں معاہدوں پر دستخط بھی کریں گے- اس کے علاوہ وہ آستانہ ایکسپو 2017ء میں ترک پیولین پر بھی جائیں گے- انہوں نے کہا کہ وہ کاغزقستان کی طرف سے بلائی گئی او آئی سی کے اجلاس اور سمٹ میں شرکت کریں گے جس کا موضوع سائنس اور ٹیکنالوجی ہے-

ہم علاقائی مسائل خصوصا شام، عراق، فلسطین، کشمیر اور میانمار پر بات کریں گے

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم سمٹ کے علاوہ وہاں مسلمان ممالک کے سربراہان سے دو طرفہ ملاقاتوں میں علاقائی مسائل خصوصا شام، عراق، فلسطین، کشمیر اور میانمار پر بات کریں گے۔ صدر نے اس موقع پر بتایا کہ ترکی اراکان ریاست کے جاری انسانی المیے پر کئی طرفی سفارتی کوششیں کر رہا ہے اور یاد کیا کہ انہوں نے 20 سے زائد ممالک کے سربراہان سے عید کے موقع پر بات کی ہے۔

امریکا کے ترک وزیر کے خلاف اقدامات مکمل طور پر سیاسی ہیں

سابق وزیر معیشت ظفر چیلیان جنہیں رضا ضراب کیس میں شامل کیا گیا جو امریکا میں گرفتار ہیں اس بارے جب صدر ایردوان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: "سابق وزیر معیشت ظفر چیلیان کے خلاف جو قدم اٹھایا گیا ہے وہ ترک ریاست کے خلاف اٹھایا گیا ہے۔ سابق وزیر کے خلاف کوئی الزام تراشی نہیں کی جا سکتی”۔ انہوں نے مزید کہا: "وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ بحثیت مملکت ترکی، ہم نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا جس سے ایران پر پابندیاں عائد ہوں۔ ہمارے ایران کے ساتھ تعلقات ہیں اور بہت تراشیدہ تعلقات ہیں۔ ہم ایران سے قدرتی گیس اور پیٹرول خریدا ہے۔ یہ سب ہم پہلے پتا اور دکھا چکے ہیں۔ میں نے مسٹر اوباما کو بتایا، اور اس کے متعلقہ عہدیدان تک بات پہنچائی گئی، ان کے وزیر خارجہ تک کہ ہم ایسی کوئی پابندیاں عائد نہیں کریں گے۔ وہ ہمارے وزیر معیشت تھے، اور اپنے عہدے پر بیٹھ کر ریاستی اور حکومتی ریگولیشنز پر عملدرآمد کرتے تھے۔ اس لیے یہ اقدامات مکمل طور پر سیاسی ہیں”۔

امریکا ترک صدارتی حفاظتی گارڈز کی تحقیقات کر رہا ہے

صدر ایردوان نے امید ظاہر کی ہے کہ کہ آئندہ ہونے والے دورہ امریکا کے دوران اس معاملے کو حل کرنے کا موقع ملے گا۔ صدر ایردوان نے کہا: ” ان اقدامات سے سے سازش کی بو محسوس ہو رہی ہے رضا زراب کا مقدمہ بھی ہلک بنک کے ڈپٹی جنرل مسٹر حکان جیسا ہی ایک مقدمہ ہے”۔

متحدہ امریکا کے حفاظتی دستے کی ناکامی جو کہ صدر ایردوان کے گزشتہ دورہء امریکا کے دوران ترکی قونصلیٹ کے سامنے پی کے کے دہشت گرد تنظیم کے حملوں کےخلاف ضروری اقدامات کے سلسلے میں ہوئی تھی کا اعادہ کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا: "آپ کو معلوم ہے کہ انہوں نے میرے محافظوں کے خلاف تفتیش کا آغاز کیا حتیٰ کہ انہوں نے نہ صرف میرے بلکہ میری بیوی کی دو خواتین محافظوں کے خلاف بھی یہی کیا حلانکہ وہ متعلقہ حادثے والے روز ڈیوٹی پر موجود ہی نہیں تھیں- اس کا کیا مطلب ہے؟ اس سے ریاست متحدہ امریکا کی انتظامی کمزوری ظاہر ہوتی ہے- انہیں یہ سب بتا دیا گیا تھا- آپ ایک عظیم قوم بن سکتے ہیں لیکن صرف ایک قوم ہونا اس سے زرا آگے کی بات ہے”۔

پریس کانفرنس کے دوران وزیرِ قانون عبداللہ گل، وزیرِ کھیل و نوجوانان عثمان اشقین باک، گورنر استنبولواصب شاہین، مئیر استنبول میٹروپولیٹن میونسپلٹی قادر قادر تابباش، استنبول پولیس چیف مصطفیٰ، استنبول پارٹی کے سربراہ سلیم اور دیگر سرکاری اہلکار بھی موجود تھے. نائب وزیرِ اعظم حکان چاوش اوّلو، وزیرِ اقتصادیات نہایت زیبکچی اور وزیرِ سائنس، صنعت اور ٹیکنالوجی فاروق صدر کے ساتھ قزاقستان میں موجود ہیں۔

تبصرے
Loading...