آیا صوفیا 24 جولائی کو عبادت کے لیے کھول دی جائے گی

0 267

صدر رجب طیب ایردوان نے استنبول کی مشہورِ زمانہ آیا صوفیا کو عجائب گھر سے دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کے فیصلے پر دستخط کے بعد قوم سے خطاب میں اعلان کیا کہ مسجد کو 24 جولائی کو عبادت کے لیے کھول دیا جائے گا۔

ترکی کی اعلیٰ ترین انتظامی عدالت جمعے کو 1934ء کے اس سرکاری فرمان کو کالعدم قرار دیا کہ جس کے مطابق آیا صوفیا کو عجائب گھر میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ اس فیصلے نے آیا صوفیا کو ایک مرتبہ پھر مسجد میں تبدیل کرنے کا راستہ کھول دیا۔

عدالت کے فیصلے کے بعد صدر ایردوان نے ایک صدارتی فرمان پر دستخط کیے جس کے تحت آیا صوفیا کو ترک وزارت مذہبی امور کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

اس اہم ترین فیصلے کے بعد صدر رجب طیب ایردوان نے رات 8 بج کر 53 منٹ پر عوام سے خطاب کیا۔ یہ وقت فتح قسطنطنیہ کے سال 1453ء کی نسبت سے منتخب کیا گیا۔ صدر ایردوان نے کہا کہ آیا صوفیا میں پہلی عبادت جمعے کی نماز ہوگی۔ صدر نے عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آیا صوفیا پر بڑی تعداد میں جمع نہ ہوں تاکہ اس کی بحالی کے کاموں میں تاخیر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ تمام تیاریاں مکمل کرنے میں چھ ماہ لگیں گے۔

آیا صوفیا دنیا کی اہم تاریخی و ثقافتی ورثے کی حیثیت رکھنے والے مقامات میں سے ایک ہے جسے چھٹی صدی میں بزنطینی سلطنت کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور یہ یونانی آرتھوڈوکس گرجے کا مسکن تھی۔ اسے 1453ء میں فتح قسطنطنیہ کے بعد شاہی مسجد میں تبدیل کیا گیا۔ 1935ء میں سخت گیر سیکولر عہد میں حکومت نے اسے عجائب گھر میں تبدیل کر دیا لیکن تب سے ہی اسے دوبارہ مسجد بنانے کے مطالبات سامنے آنے لگے اور بالآخر 85 سال کے بعد آیاصوفیا کو ایک مرتبہ پھر مسجد بنا دیا گیا۔

ترکی میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے آیا صوفیا کی مسجد کی حیثیت سے بحالی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ملی حرکت پارٹی کے سربراہ دولت باخ چیلی، اچھی پارٹی کے پارلیمانی گروپ کے سربراہ مساوات درویش اوغلو، جمہور خلق پارٹی کے پارلیمانی گروپ کے سربراہ اوزغر اوزیل، سعادت پارٹی کے تمل کرم اللہ اوغلو اور عظیم اتحاد پارٹی کے مصطفیٰ دستیجی نے اس فیصلے پر اپنی مسرت کا اظہار کیا ہے۔

تبصرے
Loading...