کشمیر کا معاملہ، صدر ایردوان اور عمران خان کا ٹیلی فون پر رابطہ

0 550

بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور علاقے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے بعد صدر رجب طیب ایردوان اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔

سفارتی ذرائع نے بتایا کہ عمران خان نے ایردوان کو صورت حال میں تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کیا، جبکہ ترک صدر نے ایک مرتبہ پھر صورت حال کو مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے فریقین کے درمیان مذاکرات پر زور دیا۔

یہ کال اس وقت آئی جب متنازع علاقہ کشمیر بھارت میں اپنی خصوصی حیثیت کھو بیٹھا ہے۔ بھارت کی نئی حکومت ملک کی واحد مسلم اکثریتی ریاست کو اپنے اندر ضم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سوموار کو بھارتی حکومت نے ایک صدارتی فرمان کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کردیا کہ جسے پاکستان نے غیر قانونی کہا ہے اور سات دہائیوں سے تصفیہ طلب مسئلے کے لیے ایک تباہ کن قدم قرار دیا ہے۔ فرمان بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم بھی کرتا ہے کہ جو براہ راست نئی دہلی کے ماتحت ہوں گے۔ وزیر داخلہ امِت شاہ نے اعلان کیا کہ حکومت بھارت کے زیر انتظام علاقے کی خصوصی حیثیت ختم کر رہا ہے اور پارلیمان کو بتایا کہ آئین کی دفعہ 370 ختم کردی جائے گی اور بھارت کا دستور ریاست جموں و کشمیر پر لاگو ہوگا۔ یعنی ریاست کے اپنا قانون خود بنانے کے حقوق کا خاتمہ ہو گیا۔

قبل ازیں ترک وزیر خارجہ نے بھی بھارت کے قدم پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ایک تحریری بیان میں وزارت نے کہا کہ اسے امید ہے کہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مذاکرات کے ذریعے اور جموں و کشمیر کے عوام کے قانونی مفادات کے مطابق حل ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر فریقین رضامند ہوں تو ترکی خطے میں تناؤ کو کم کرنے کے لیے مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔

1947ء سے کشمیر خصوصی حیثیت کا حامل رہا ہے جس کے تحت اسے اپنی شہریت کے قانون کی حفاظت کا حق حاصل تھا اور ریاست سے باہر کے افراد ان کے علاقے میں املاک و جائیداد حاصل نہیں کر سکتے تھے۔

خطہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے پاس ہے کہ جو دونوں پوری ریاست پر اپنا حق رکھتے ہیں۔ تقسیمِ ہند سے لے کر آج تک دونوں ممالک تین جنگیں لڑ چکے ہیں کہ جن میں سے دو کشمیر پر لڑی گئیں۔ کشمیری گروپس بھارت کے غاصبانہ قبضے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جو یا تو آزادی چاہتے ہیں یا پھر پاکستان کے ساتھ الحاق کے خواہش مند ہیں۔

انسانی حقوق کی کئی انجمنوں کے مطابق 1989ء سے لے کر اب تک مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔

تبصرے
Loading...