صدر ایردوان کی لیبیائی نمائندوں سے ملاقات، ترکی-لیبیا تعلقات پر بات چیت

0 154

صدر رجب طیب ایردوان نے لیبیا کے ایوانِ نمائندگان کے نائب اسپیکر فوزی النویری اور ان کے ساتھ آنے والے وفد سے انقرہ میں ملاقات کی ہے جو لیبیائی-ترک پارلیمنٹری فرینڈشپ گروپ کی دعوت پر ترک پارلیمان آیا ہے۔

وفد کے پہلے دورۂ ترکی میں صدر کے ساتھ ایک گھنٹہ طویل ملاقات رہی۔ اس موقع پر ترکی کی پارلیمان کے اسپیکر مصطفیٰ شین توپ، صدارتی کمیونی کیشنڈ ڈائریکٹر فخر الدین آلتن، صدارتی ترجمان ابراہیم قالن اور چند قانون سازوں نے بھی شرکت کی۔

وفد نے اسپیکر مصطفیٰ شین توپ سے علیحدہ ملاقات بھی کی۔

اجلاس کے بعد فوزی النویری نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انقرہ کے دورے پر وہ بہت خوش ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری آئے گی۔

لیبیا کے وفد کے دورے کا بنیادی مقصد مشرقی شہر بن غازی میں ترکی کا قونصل خانہ کھولناہے، جو جون 2014ء سے بند ہے۔ اس کے علاوہ بن غازی کے لیے ترکش ایئر لائنز کی پروازوں کا دوبارہ آغاز بھی شامل تھا لیکن ترک نمائندوں نے ضروری تکنیکی کام کی تکمیل اور ساتھ ہی حفاظتی انتظامات کی اہمیت پر زور دیا۔

لیبیائی قانون سازوں نے ترکی کے سفیر برائے طرابلس کو بھی بن غازی مدعو کیا۔

لیبیائی-ترک پارلیمنٹری فرینڈشپ گروپ کے سربراہ احمد یلدیز نے کہا کہ ترکی لیبیا کی حمایت جاری رکھے گا اور سب سے توقع رکھتا ہے کہ وہ آئندہ انتحابات سے قبل اور اس کے بعد ہتھیار اٹھانے سے باز رہیں گے۔

لیبیا 2011ء میں سابق آمر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے خانہ جنگی کی زد میں ہے۔ ترکی نے اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت کا ساتھ دیا جو باغی جرنیل خلیفہ حفتر کا مقابلہ کر رہی تھی۔

اب لیبیا میں 24 دسمبر کو پارلیمانی و صدارتی انتحابات متوقع ہیں۔

ترکی کے حالیہ چند سالوں سے لیبیا سے بہت قریبی تعلقات ہیں، خاص طور پر نومبر 2019ء میں سکیورٹی اور بحری حدود کے معاملات پر معاہدوں کے بعد، جس کے علاوہ ترکی نے لیبیا کی قانونی حکومت کی باغیوں کے خلاف بھرپور مدد بھی کی۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: