ایردوان، استعمار مخالف پالیسی کا اظہار

سلجوق ترک یلماز

0 246

ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں کہ جس میں مغرب کو اپنے سابقہ حلقۂ اثر کے ہاتھوں علانیہ سوالات کا سامنا ہے۔ یہ نظریاتی شدت پسندی نہیں بلکہ یہ وقت ایسا ہے جس میں سوال اٹھانا ذہنی جستجو سے کہیں آگے کی بات ہے اور درحقیقت مغربی استعمار کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔ وسطی اور لاطینی امریکا سے لے کر افریقہ اور ایشیا تک ایک وسیع دنیا ہے کہ جہاں طاقت کے مختلف مراکز بن رہے ہیں اور یہ مراکز مغرب کے خلاف مزاحمت کر سکتے ہیں۔ آزاد خیال سوچ اور رویّے کا استعمال کرکے اس نئی صورت حال کو سمجھنا ممکن نہیں۔

ترکی بھی مغرب کے حلقۂ اثر میں تھا بلکہ انہیں زنجیریں بھی کہا جا سکتا ہے۔ پہلی جنگِ عظیم میں شکست کے بعد گلے میں ڈالے گئے طوق نے ہمارے ذہنوں پر قبضہ جما لیا۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ ایسا مسئلہ ہے جو وقت کے ساتھ آشکار ہوتا ہے۔ بلاشبہ افراداور ادوار کا مختلف اندازہ لگایا جا سکتا ہے لیکن اس کا نتیجہ کوتاہ اندیشی کی صورت میں نکل سکتا ہے جو ہمیں حقیقت کا ادراک کرنے سے روکتی ہے۔ اگر ہم اسے تسلسل میں دیکھیں تو حقیقت کا بہتر ادراک کر سکتے ہیں؛ افراد اور عمل اہم ہیں لیکن وہ واحد فیصلہ کُن کردار نہیں ہیں۔ ہم نے جنگِ عظیم میں شکست کھائی اور ایک عرصے کے لیے تاریخ کے منظرنامے سے غائب ہوگئے۔

"دنیا پانچ ملکوں سے بڑی ہے”، "اوہ یورپ!” اور "تمہیں خوب معلوم ہے کہ مارنا کیسے ہے” جسے بیانات نئی پالیسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

مغربی میں بڑھتے اسلام کے خوف (اسلاموفوبیا) کو اس جدوجہدِ آزادی کے تسلسل کے طور پر دیکھنا چاہیے کہ جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد ہوئی۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ "اسلاموفوبیا” اور "زینوفوبیا” یعنی غیر ملکیوں کا باہم تعلق ہے۔ حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ مغرب کے ان احساسات میں مزید شدت آئی ہے۔ حیرت نہیں ہوئی کہ یہ مخالفت اور عداوت جلد ہی مسلمان اور ترکی مخالف طرزِ عمل میں تبدیل ہوگئی۔

سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی ایک وڈیو میں دیکھا گیا کہ صبح نماز پڑھنے کے لیے جانے والے چند افراد کے خلاف گالم گلوچ کی گئی۔ ممکنہ طور پر حملہ آور اور وڈیو شیئر کرنے والا فرد ایک ہی ہے، جس سے کئی نئے مفاہیم نکلتے ہیں۔ اسی روز ایک باحجاب لڑکی کو مارا گیا۔ مغرب میں اسلاموفوبیا کی جھلک جلد ترکی اور اسلامی دنیا میں نظر آنے لگی۔ یہ صورتِ حال عام ہے اور ریاست کے اندر جڑیں رکھنے والے مخصوص عناصر کی ذہنیت کی عکاس بھی۔

اسلاموفوبیا ایک بہت اہم ہتھیار ہے۔ مغرب کے لیے یہ بہت ضروری تھا کہ وہ خود اسلام کے خلاف کھڑا ہو اور یوں نئی شناخت ترتیب دے، لیکن ساتھ ہی مشرقی میں فوجی، سیاسی، معاشی اور دیگر مداخلتیں کرنے کے لیے راستہ ہموار کرنے میں استعمال ہوا۔ مسلم دنیا کے لیے گزشتہ 30 سال بہت تکلیف دہ رہے۔ ریاستیں تباہ ہوئیں، شہر برباد ہوئے اور لاکھوں افراد مارے گئے یا بے گھر ہوگئے اور مفلس و کنگال ہو گئے۔ یہ ایک باقاعدہ عمل کا نتیجہ ہے۔ اب تین براعظموں کے مختلف خطے میں نئی مداخلت ہوتے دیکھنا حیران کُن نہیں ہوگا۔ مغرب سے باہر واقع ان تین براعظموں میں مزاحمت نئے مراکز کی تخلیق کی اجازت دیتی ہے۔ یہ واضح ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرح متاثر ہوں گے جسے ترکی ہوا۔ ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ مغرب ان مزاحمتوں کا خاتمہ چاہتا ہے۔

ہمارے ہدف جنگ کے نئے میدان یا نئے دشمن بنانا نہیں ہے۔ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔ ہم نے ترکی کو تقسیم کرنے والے نظریات اور مذہبی تفہیمات کو دیکھا ہے۔ یہ واضح ہے کہ امریکا اور مغرب کے لیے کارآمد افراد اور گروہ مخصوص نظریات، عقائد اور شناخت کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ ہم نے وقتاً فوقتاً ثابت کیا ہے کہ ہم ایک ہی ماحول میں مختلف نظریات کو تسلیم کرنے والے افراد کے ساتھ متحد ہوکر رہے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ جو ہر موقع پر ہنگامے کھڑے کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ سمجھنا ہی بہتر ہے کہ ہمیں داخلی حرکیات کی بنیاد پر نہیں مسائل کا سامنا نہیں رہتا۔ ہمیں معلوم ہے کہ جو روز و شب ایردوان کی مخالفت میں لگے ہوئے ہیں وہ اس ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ وہ گلی گلی ہنگامے کھڑے کرنا چاہتے ہیں۔

ترکی نہ ہی امریکا کا دشمن ہے اور نہ مغرب کا۔ ترکی ایک نوآبادیات مخالف پالیسی کی پیروی کر رہا ہے کہ جسے سامراج اور استعمار مخالف کہا جاتا ہے۔ ایردوان اس پالیسی کا عملی اظہار ہیں۔ سابق اسرائیلی رہنما شمعون پیریز کے خلاف استعمال کیے گئے الفاظ ایردوان کی اس حساسیت کے عکاس ہیں جو 1917ء ہمارے جغرافیائی وجدان کو تشکیل دیتی ہے۔ یہ "ایک منٹ” کا واقعہ محض جذبات کا اظہار نہ تھا۔ ایردوان امریکا اور روس کی موجودگی کے باوجود خطے کو اپنے قدموں پر کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں۔ آپ کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ فسادات کا رُخ کس طرف ہے۔ آپ کی عداوت کا رُخ ترکی اور اِس علاقے کی جانب ہے۔

تبصرے
Loading...