صدرایردوان اور میکرون کایوکرائن پر روسی حملہ بارےتبادلہ خیال

0 1,225

صدارتی دفتر کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق صدر رجب طیب ایردوان اور ان کے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئل میکرون کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں یوکرائن پر ہونے والے روسی حملے بارے تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

قبل ازیں، ترکی اور فرانس دونوں نے جمعرات کے روز یوکرائن پر حملہ کرنے کے روسی فیصلے کی مذمت کی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے یورپی خطے میں موجود ریاست پر کسی بھی بیرونی ریاست کا یہ پہلا زمینی، سمندری اور فضائی حملہ ہے۔

روسی افواج نے یوکرائن کے کئی شہروں کے اہم علاقوں کو ہتھیاروں اور میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے اور اسے  اپنے پڑوسی کے خلاف خصوصی آپریشن قرار دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق صدر ایردوان اور میکرون نے مداخلت اور تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

صدر ایردوان نے ایک دن قبل کہا تھا کہ یہ حملہ بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے اور خطے کے امن، سکون اور استحکام کے لیے ایک زبردست دھچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی، یوکرائن کی علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے اور روس کے حملے سے "دلی طور پر غمزدہ” ہے۔

فرانسیسی صدر میکرون نے ٹویٹر پر لکھا، "روس کو فوری طور پر اپنی فوجی کارروائیوں کو ختم کرنا چاہیے،” یہ بھی لکھا کہ روس نے یوکرائن پر "جنگ” تھوپنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید کہا کہ "فرانس یوکرائن کے ساتھ یکجہتی کرتا ہے۔ وہ یوکرائنیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے”۔

صدر ایردوان، جن کے روس اور یوکرائن، دونوں ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ اچھے تعلقات موجود ہیں، انہوں نے اس سے قبل تنازعہ میں ثالثی کی بھی پیشکش کی تھی، اس سے قبل جمعرات کو یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ٹیلی فون پر بات کی تھی۔

صدر ایردوان نے کہا کہ "ترکی، اس جنگ میں یوکرائن کی علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے۔”

ترکی کی وزارت خارجہ نے روس کی فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزارت نے کہا، "یہ حملہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور ہمارے خطے اور دنیا کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔”

ترک وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ "ہم روسی فیڈریشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس غیر منصفانہ اور غیر قانونی عمل کو فوری طور پر ختم کرے۔”

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: