اگر ہم نے فتحِ مانزکرت کی روح کو زندہ نہ رکھا تو پھر ہم اپنے ماضی کے ساتھ اپنا مستقبل بھی کھو بیٹھیں گے، ایردوان

0 1,123

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اناطولیا میں 1071ء کی فتح ملازکرد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "صدیوں کے باوجود ملازکرد کی روح آج بھی زندہ ہے جب ترک سیاسی، سفارتی، معاشی اور عسکری حملوں کا مقابلہ کرتے ہیں”۔ انہوں نے کہا کہ میدان جنگ اور اس شہر اھلت میں ماحولیاتی تحفظ کے کئی اقدامات ہم نے اٹھائے ہیں۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں سلجوق سلطان الپ ارسلان نے اپنا مرکز بنایا اور میدان جنگ بنا۔

جنگ ملازکرد یا جنگ مانزکرت 26 اگست 1071ء (464ھ) کو سلجوقی اور بازنطینی سلطنت کے درمیان مشرقی اناطولیہ میں لڑی گئی جس میں سلجوقیوں کی قیادت الپ ارسلان اور بازنطینیوں کی قیادت رومانوس چہارم نے کی۔ جنگ سے قبل سلطان الپ ارسلان نے بازنطینی لشکر کی پیش قدمی روکنے کے لیے معاہدے کی پیشکش کی لیکن رومانوس سے اسے ٹھکرادیا جس کے نتیجے میں موجودہ ترکی میں واقع جھیل وان کے شمال مغرب میں ملازکرد کے مقام پر دونوں افواج کا ٹکراؤ ہوا۔ الپ ارسلان نے رومیوں کے خلاف شاندار فتح حاصل کی اور سلجوقی سلطنت کی حدیں اناطولیہ میں مزید آگے تک بڑھ گئیں۔

صدر ایردوان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا، "جنگ مانزکرت کی فتح کا اثر بورصا، ایدرن اور استنبول کی فتحوحات کی صورت میں نظر آیا۔ یہ وہ وقت تھا جب ترک تاریخ میں ایک طاقت کے طور پر ابھرے اور اگر ترکی مانزکرت کی روح کو بھول جاتا ہے تو یہ اپنی تاریخ اور مستقبل کھو بیٹھے گا”۔

انہوں نے کہا، "مانزکرت کو یاد رکھنا، اپنی قوت کو جاننا اور یاد رکھنا ہے”۔

انہوں نے اس موقع پر تقریب میں موجود نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قومی تاریخ کا تحفظ کرنا ہے اور اپنے مستقبل کو یقینی بنانا ہے "مت بھولو کہ ہمارے آباء و اجداد نے اپنی قربانیوں کے ساتھ اپنی قوت کو کیسے یقینی بنایا”۔

اس موقع پر انہوں نے 15 جولائی 2016ء کی رات ترک قوم کی قربانیوں کو بھی یاد کیا جنہوں نے فتح اللہ گولن (فیتو دہشتگرد گروپ) کی بغاوت کا مقابلہ کیا اور انہیں شکست سے دوچار کیا۔

ترک صدر نے اناطولیا کو خطے کے امن اور استحکام کا محور قرار دیا اور کہا، "اگر اناطولیا گرتا ہے تو افریقہ گرتا ہے، کاکیشیا گرتا ہے، مشرق وسطیٰ گرتا ہے اور مرکزی ایشیا گرتا ہے”۔

انہوں نے مزید کہا، "یہی وجہ ہے کہ ہمیں معیشت، سفارتکاری، ملٹری، صعنت سمیت تمام متعلقہ ایجنسیوں اور اداروں میں مضبوطی درکار ہے”۔ صدر ایردوان نے کہا، "ہمارے پاس کہیں بھی اپنی کمزوری دکھانے کا وقت نہیں ہے۔ گدھ ہمارے آس پاس منڈلا رہے ہیں”۔

تقریب سے پارلیمانی اسپیکر بن علی یلدرم اور ملی حرکت پارٹی کے سربراہ دولت بہچالی نے بھی خطاب کیا۔

تبصرے
Loading...