مشرقی بحیرۂ روم کی صورت حال، صدر ایردوان اور نیٹو کے سربراہ کا ٹیلی فون رابطہ

0 973

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے بذریعہ فون کال نیٹو کے سیکریٹری جنرل ژاں ستولتن برگ کو مشرقی بحیرۂ روم میں تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کیا۔

نیٹو کے سربراہ کے ساتھ گفتگو کے دوران صدر ایردوان نے کہا کہ حکومت ہمیشہ ترکی کے حقوق اور مفادات کا تحفظ کرے گی اور زور دیا کہ ملک مشرقی بحیرۂ روم کے معاملے کے منصفانہ حل کی حامی ہے کہ جو سب کے لیے موزوں ہو۔

ترکی ڈائریکٹوریٹ آف کمیونی کیشنز کے مطابق فون کال میں صدر ایردوان نے زور دیا کہ علاقائی امن صرف منصفانہ مذاکرات سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ نیٹو کو یک طرفہ اقدامات کے خلاف اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے کہ جو بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کر رہے ہیں اور علاقائی امن کو برباد کر رہے ہیں۔

مشرقی بحیرۂ روم میں چند ہفتوں سے کشیدگی بہت بڑھ گئی ہے کہ جہاں اب ترکی اور یونان دونوں فوجی مشقیں بھی کر رہے ہیں۔ بحیرۂ روم کے ساتھ طویل ترین ساحلی پٹی رکھنے والا ملک ترکی اپنے براعظمی کنارے (continental shelf) میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے اپنے ڈرل شپس بھیج چکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ترکی اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص دونوں اس علاقے پر حق رکھتے ہیں۔

یونان مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی کی تلاش کو متنازع سمجھتا ہے اور ترک ساحل کے قریب چھوٹے سے جزائر کو بنیاد بنا کر ترک بحری حدود کو محدود کرنا چاہتا ہے۔ ترکی کی قانونی سرحدی حدود کو روکنے کے لیے یونان نے 9 جون کو اٹلی اور 7 اگست کو مصر کے ساتھ خصوصی اقتصادی زونز (EEZ) معاہدے کیے۔

ترک وزارتِ خارجہ نے بھی مشرقی بحیرۂ روم میں انقرہ کی سرگرمیوں کے حوالے سے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ اجلاس کے بعد ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ "مشرقی بحیرۂ روم میں کشیدگی کی وجہ یونان اور یونانی قبرص انتظامیہ ہے، جو اپنے توسیع پسندانہ اقدامات کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کے خلاف کام کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے انہیں ملنے والی پشت پناہی کی وجہ سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔”

بیان میں کہا گیا ہے کہ "ترکی کی اپنے براعظمی کنارے میں تیل و گیس کی تلاش پر یورپی یونین کی تنقید اور اس کو روکنے کا مطالبہ نامناسب ہے۔ جیسا کہ یورپی عدالت انصاف تصدیق کرتی ہے کہ یورپی یونین اس معاملے پر کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ یہ مطالبہ یورپی یونین کے اپنے اور عالمی قوانین کے خلاف ہے۔”

ترکی نے یورپی یونین کی رکن ریاستوں سے مطالبہ کیا کہ وہ یونان کے "توسیع پسندانہ مطالبات” کی حمایت نہ کریں۔ یورپی یونین کو "غیر جانب دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے اور ایک دیانت دار ثالث بننا چاہیے۔”

تبصرے
Loading...