ترک حکومت نے پاکستان کا 1.2 ارب جرمانہ چھڑوا دیا

0 2,143

پاکستان اور ترکی کے درمیان تنازعات کا شکار بننے والا کارکے رینٹل پاور کیس بالاخر ترک حکومت نے ختم کروا دیا ہے۔ زرداری دور حکومت نے جہاں کئی عالمی کمپنیوں نے رینٹل پاور کے معاہدے جیتے تھے ان میں ایک بڑا نام ترک کمپنی کارکے پاور شپ کا تھا۔ لیکن اس معاہدے میں مقامی سطح پر تنازعہ بننے کے بعد 2012ء میں پاکستانی سپریم کورٹ کے حکم پر پاکستان نے ترک کمپنی کار کے سے رینٹل پاور پروجیکٹس کا کنٹریکٹ ختم کردیا تھا جس کے بعد ترک کمپنی نے کمپنی کے ساتھ معاہدہ خلاف ورزی پر عالمی ٹربیونل میں فروری 2013 میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ کارکے کو پاکستان میں بجلی کے بحران سے نمٹنے کیلئے 560 ملین ڈالرز کا کنٹریکٹ دیا گیا تھا۔ 2017ء میں عالمی ٹربیونل میں پاکستان کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے بھاری جرمانہ عائد کیا تھا۔

2019ء میں حکومت پاکستان کی طرف سے اپیل دائر کی گئی اور اعلان کیا گیا کہ نئے شواہد پیش کر کے یہ کیس جیت لیا جائے گا۔ لیکن حکومت پاکستان اور ترک حکومت کے درمیان باہمی رابطے کے بعد اس مسئلہ کو حتمی طور پر حل کر لیا گیا اور پاکستان کو جرمانہ معاف کر دیا گیا ہے۔ کارکے الیکٹرک شپ یارڈ پاکستان سے جرمانہ وصول نہیں کرے گا۔

پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ دن سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے ترک صدر ایردوان کا شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر انہوں نے مذاکراتی ٹیم کو مبارک باد بھی پیش کی۔ تاہم اس معاملے پر کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔

ترک نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ذاتی طور پر ترک صدر ایردوان نے رابطہ کیا اور پاکستان کی گھمبیر معاشی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے جرمانہ ادائیگی سے استثنا مانگی اور معاملہ حل کرنے کی استدعا کی۔

تبصرے
Loading...