ایردوان، پوپ فرانسس ملاقات: چھوٹی کرسی کی حقیقت کیا ہے؟

0 16,823

ترک صدر رجب طیب ایردوان اور پوپ فرانسس کے درمیان گذشتہ دن ویٹیکن میں ملاقات ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ اور عالمی قوانین کے تحت قائم شدہ بیت المقدس کی حیثیت کی تائید کی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کی مخالفت کی جو بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

 

دونوں رہنماؤں نے اجنبیوں سے نفرت اور اسلاموفوبیا کے خلاف مشترکہ کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا، اور دہشتگردی کو مذاہب سے نتھی کرنے کو غلط قرار دیا۔

ملاقات کے بعد ایک تصویر کی مدد سے ایک غلط فہمی پھیلانے کی کوشش کی گئی جسے عرب دنیا کے کئی اخبارات نے بھی شائع کیا۔ لکھا گیا ہے کہ، "ویٹی کن میں حسب دستور پوپ کے ملاقاتی کےلیے چھوٹی کرسی رکھی جاتی ہے۔ صدر ایردوان  نے اپنی ملاقات کے وقت اس چھوٹی کرسی پر بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ جس پر پوپ کی کرسی جیسی ہی ایک کرسی منگوائی گئی اور ’برابری‘ کی سطح پر یہ ملاقات ہوئی”۔

درحقیقت دوران پروٹوکول ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا بلکہ ترک صدر رجب طیب ایردوان کا رومن کیتھولک عیسائیوں کے روحانی مرکز ویٹیکن کے اپوسٹولک محل کی طرف سے پر تپاک استقبال کیا گیا۔

مذکورہ تصویر کی حقیقت اس وڈیو سے واضع ہو جاتی ہے، اس کرسی کو عمومی طور پر مترجم کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔


 

لیکن تاحال یہ حقیقت واضع نہیں ہو سکی کہ پوپ فرانسس کے ہر ملاقاتی کے دوران ایسی ہی تصویر کیسے سامنے آ جاتی ہے۔

اس سے قبل گذشتہ سال مئی 2017ء میں پوپ فرانسس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران بھی ایسی ہی تصویر سامنے آئی تھی۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان کے دورہ ویٹیکن کے مکمل استقبال یہاں دیکھا جا سکتا ہے:


تبصرے
Loading...