توانائی کے شعبے میں ترکی-روس تعاون باہمی اقتصادی تعلقات کے ستونوں میں سے ایک

0 747

صدر رجب طیب ایردوان اور روس کے صدر ولادیمر پوتن نے روسی دارالحکومت ماسکو میں ترک-روس اعلیٰ سطحی تعاون کونسل کے آٹھویں اجلاس کے بعد ترک و روسی کاروباری دنیاؤں کے نمائندگان سے ملاقات کیں۔

اس موقع پر ترک اور روسی کاروباری شخصیات سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان زبردست مذاکرات اقتصادی تعلقات اور کاروباری شعبوں کے مثبت ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ ترکی اور روس کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعلقات 1990ء کی دہائی سے دونوں ملکوں کے باہمی تعاون کے لیے محرّک کا کام کر رہے ہیں۔

کاروباری شخصیات کی رائے سننے اور اعلیٰ ترین سطح تک اُن کے لیے سیاسی مدد کا اعادہ کرنے کو اپنی اس ملاقات کا مقصد بتاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ تقریباً 1,300 ترک کاروباری شخصیات ہیں جو ترکی میں کاروبار کر رہے ہیں، جو دونوں ملکوں کی کاروباری دنیاؤں کے درمیان تعلقات کے سلسلے میں اہم پہلو ہے۔ صدر نے مزید کہا کہ کاروباری شخصیات کے مسائل کو سمجھنے اور ان کو حل کرنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے اپنا کام جاری رکھیں گے۔

دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم 15 فیصد اضافے کے ساتھ 2018ء میں 26 ارب ڈالرز تک پہنچنے کا ذکر کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ اس کے باوجود یہ ہمارے 100 ارب ڈالرز کے ہدف سے کہیں پیچھے ہے اور مزید کہا کہ ہمارا ہدف متوازن تجارتی ڈھانچے کے ساتھ باہمی تجارت کے حجم کو 100 ارب ڈالرز تک پہنچنے کے لیے نئے راستوں کی تلاش کرنا ہے۔

روس میں ترک کاروباری افراد نے جن منصوبوں کو سمجھا ہے، ان کی طرف توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "میرا ماننا ہے کہ روسی حکومت ہمارے ان اداروں کو مزید سپورٹ فراہم کرے گی جو مستقبل پر بھروسہ کرتے ہوئے روس میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "توانائی کے شعبے میں روس کے ساتھ ہمارا تعاون ہمارےمعاشی تعلقات کے ستونوں میں سے ایک ہے۔ اس شعبے میں ہماری تمام شراکت داریاں، بالخصوص بِلو اسٹریم، ترک اسٹریم اور اکویو نیوکلیئر پاور پلانٹ، طویل المیعاد اور تزویراتی انتخاب ہیں۔”

دونوں کے درمیان تجارت میں قومی کرنسیوں کے استعمال کا بھی حوالہ دیتے ہوئے صدر ایردوان نے زور دیا کہ یوں وہ تیسرے ممالک کے محصولات اور کرنسی مارکیٹوں میں ساز باز سے اٹھائےجانے والے اقدامات سے خود کو محفوظ رکھیں گے۔

تبصرے
Loading...