فتحِ ملازکرد ایک عظیم ترکی کے قیام کا حوصلہ اور عزم عطا کرتی ہے، صدر ایردوان

0 227

ترکی فتحِ ملازکرد کے 950 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہا ہے، ایک ایسی کامیابی جس نے اناطولیہ میں ترک اقتدار کی راہ ہموار کی۔

اس جشن کے دوسرے دن صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ فتحِ ملازکرد نے انہیں مزید آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا ہے اور وہ ایک "عظیم تر اور مضبوط تر ترکی” کے قیام کی راہ میں چیلنج بننے والی کسی رکاوٹ کو قبول نہیں کریں گے۔

وہ جمعرات کو مشرقی صوبہ موش کے ضلع ملازکرد میں اسی مقام پر خطاب کررہے تھے جہاں 1071ء میں سلطان الپ ارسلان کی زیر قیادت سلجوق افواج نے بزنطینی فوج کو تاریخی شکست دی تھی۔

اس موقع پر صدر نے کہا کہ "ملازکرد اناطولیہ میں ہماری تاریخ کا نقطہ آغاز ہے۔ اس تاریخ میں کوئی ایسی جنگ نہیں جو آسانی سے جیتی گئی ہو اور یہاں اِس میدان پر ملنے والی کامیابی بھی زبردست جدوجہد اور قربانیوں کا نتیجہ تھی۔”

انہوں نے کہا کہ "اس فتحِ عظیم کے بعد ترک قبائل کو آئندہ عرصے میں ایجیئن اور مرمرہ کے ساحلوں کی جانب بڑھنے کا حوصلہ ملا اور انہوں نے ان علاقوں کو مادرِ وطن بنایا۔”

رجب طیب ایردوان نےکہا کہ "تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے اس قومی جودجہد کے دوران مفتوحہ علاقوں میں امن، برداشت اور ترقی کو یقینی بنایا ہے۔ آج بھی ہم ہر اس جگہ کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں کہ جہاں یہ پرچم لہرا رہا ہے۔ اس عمل کی تحریک ہمیں اپنے آبا و اجداد سے ملتی ہے۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "1071ء کی فتح ایک معمولی کامیابی نہ تھی بلکہ یہ ماضی اور مستقبل کے درمیان پُل کی تعمیر کا پہلا ستون تھی۔”

ترک صدر نے کہا کہ "ترکی اس عظیم تہذیب کا جدید اظہار ہے جس نے مشرق و مغرب کے ہر پہلو کو قبول کیا اور ایک نئے عروج کی جانب گامزن ہے۔ ہم اپنے ملک کو ہر شعبے میں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لائے ہیں، تعلیم اور صحت سے لے کر توانائی اور امن و سلامتی تک۔ ہم اِس دور میں عروج پر پہنچیں گے جہاں عالمی، سیاسی اور معاشی نظام تبدیل ہو رہا ہے۔”

تبصرے
Loading...