ایردوان ‘مشترکہ مسلم نقطہِ نظر’ بنانے کے خواہاں ہیں، ماہرین

0 1,891

بدھ کو اناطولیہ نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے حامد عمراہ بیرس جو غازی یونیورسٹی انقرہ میں پروفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ ترک پبلک آرڈر اور سیکیورٹی انڈر سیکرٹریٹ کے نائب سربراہ بھی ہیں کا کہنا تھا کہ ترک صدر کو بہت سے لوگ دنیا بھر کے مسلمانوں کا روحانی پیشوا سمجھتے ہیں جو تمام مسلمانوں کی مشترکہ زبان اور نقطہء نظر کی بنیاد رکھنے کے لئیے کوشاں ہیں۔

اپنے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ترکی کے اس خطہ میں مضبوط تاریخی تعلقات ہیں اور یہ ملک ایک منفرد حیثیت کا حامل ہے۔

بیرس کے مطابق مسلمان معاشرے کا سب سے بڑامسئلہ حکمرانوں اور عوام کے درمیان فاصلہ ہے اور بیشتر مسلمان ملکوں میں جہاں مطلق العنان حکومتیں قائم ہیں وہاں حکومتی پالیسیوں میں حقیقی عوامی ضروریات کا خیال رکھنے کا فقدان نظر آتا ہے۔

انہوں نے مزیدکہا کہ ان ریاستوں میں حکمران اپنی حکمرانی کے تحفظ کے لئے عوام کی آرزؤں کا خیال کرنے کے بجائے مغربی ملکوں کو اتحادی بنانے اور انکی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے مسلمان معاشرہ زیادہ ترمنقسم ہے اور انمیں اکٹھے ہوکر سامنے آنے کی سکت نہیں ہے کیونکہ ہر ملک کا اپنا ایجنڈا، اپنے مفادات اور مغربی ممالک کے ساتھ اپنی مصروفیات ہیں۔

انہوں نے دلیل دی کہ اس لحاظ سے ترکی علاقائی ممالک سے مضبوط تاریخی تعلقات کی بناء پر ایک جداگانہ اور منفرد مقام رکھتا ہے۔

انہوں نے دعوی کیا کہ بہت سے اسلامی خطوں کے خیال میں صدر ایردوان صرف ترکی کے نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کے راہنما ہیں ۔اور وہ تمام مسلمانوں کی مشترکہ زبان اور نقطہء نظر کا احیاء چاہتے ہیں مگر انکے خیالات بادشاہی حکومتوں کے مفادات سے مطابقت نہیں رکھتے لہذا ان کے مطابق مستقبل قریب میں یورپین یونین طرز پر کسی مسلم اتحاد کا وجود میں آناخارج از امکان ہے۔

مسلمان ملکوں میں بحران

استنبول یونیورسٹی میں شعبہء مطالعہ مشرق وسطی کے پروفیسر احمد یوسل کے مطابق ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں نے بدقسمتی سے پچھلی صدی میں بہت زیادہ قتل عام،بربریت ،انسانی اور سیاسی المیے سہے ہیں اور بد قسمتی سے یہ لگاتار بڑھتے جا رہے ہیں اور زیادہ تر مسائل کا سامنا مشرق وسطی، افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیاء کے خطوں میں ہوا جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ 70سال سے جاری فلسطین اسرائیل تنازعہ نے ایکبار پھر مسلمان ملکوں میں آگ بھڑکا دی ہے۔ تمام تر بین ا لاقوامی مخالفت کے باوجود پچھلے ہفتے امریکی صدر ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارتخانہ وہاں منتقل کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

مقبوضہ بیت المقدس شروع سے ہی فلسطین اسرائیل تنا زعہ میں بنیادی حیثیت کا حامل رہا ہے کیونکہ فلسطینی اس شہر کے مشرقی حصہ(جو اب اسرائیلی قبضے میں ہے) کو مستقبل میں اپنی ریاست کا دارلخلافہ بنانا چاہتے ہیں۔

یوسل کے مطابق جب ہمیں اس قسم کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے تو ہم اوآئی سی کی طرف دیکھتے ہیں۔

آج استنبول میں امریکی فیصلے کے خلاف اوآئی سی کا ہنگامی اجلاس ہو رہا ہے ۔ 1.6ارب مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم او آئی سی اس وقت اقوام متحدہ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی بین الحکومتی تنظیم ہے جسکے رکن دنیا بھر کے57 اسلامی ملک ہیں اور اسکا وجود اس وقت عمل میں آیا جب 1969میں ایک آسٹریلوی شہری کو مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے میں مسجد اقصی کے منبر کو آگ لگانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

منگل کو ترک وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ او آئی سی امریکا کے اس اسرائیلی فیصلے کے خلاف ایک مضبوط پیغام دے گی۔انہوں نے کہا کہ مسلمان معاشرہ بری طرح تقسیم اور مغرب کے زیر اثر ہے اور مشرق وسطی کے بیشتر ممالک میں جمہوریت بھی نہیں ہے اسی وجہ سے ان ملکوں کے حکمران عوام کی خواہشات کا خیال کرنے کے بجائے اپنے مفادات کاتخفظ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عام طور پر او آئی سی اور ڈی ایٹ جیسے پلیٹ فورم غیر مؤثر فیصلے کرتے آئے ہیں مگر اس مرتبہ او آئی سی کے اجلاس میں کچھ بہتری کی امید ہے۔مسلمان ملکوں کو امریکی فیصلے کے خلاف فیصلہ کن رد عمل کا اظہار کرنا چاہئے۔ (رپورٹ: خضر منظور)

تبصرے
Loading...