فیتو گرفتاریوں کے بعد کوسوو وزیر اعظم کی طرف سے وزیر داخلہ اور انٹیلی جنس چیف برطرف، ایردوان کی سخت تنقید

0 1,680

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کوسوو کے وزیر اعظم کو سخت تنقید کی جنہوں نے گذشتہ روز ترک انٹیلی جینس اور کوسوار انٹیلی جینس کی مشترکہ کاروائی کے ذریعے گرفتار ہونے والے فتح اللہ گولن کے ساتھیوں پر ردعمل میں اپنے ہی وزیر داخلہ اور انٹیلی جینس افسر کو برطرف کر دیا۔

جمعہ کے روز کوسوو کے وزیر راموش ھارادیناج وزیر داخلہ فلیمور سفاج اور سیکرٹ سروس چیف دریتن گاشی پر برس پڑے کہ انہوں نے بتائے بغیر آپریشن کیا۔ انہوں نے کہا، "پورا آپریشن ۔۔۔۔ جن میں ان کے رہائشی پرمٹ معطل کیے جانا، گرفتاریاں اور ایمرجنسی ڈیپورٹ کرنا اور خفیہ طریقے سے6 ترک باشندوں کی ترکی کو حوالگی مجھے بتائے اور اجازت کے بغیر کی گئی”۔

استنبول میں آق پارٹی کے ضلعی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ بلقان میں اس دہشتگرد گروپ کے اہم عہدیدار دھر لیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، "تاہم میں ایک چیز سے پریشان ہوں کہ کوسوو کے وزیر اعظم نے وزیر داخلہ اور انٹیلی جینس آفیسر کو نوکوی سے نکال دیا ہے۔ اب میں کوسوو کے وزیر اعظم سے کہتا ہوں کہ تم نے یہ اقدام کس کے حکم پر کیا ہے؟ تم نے ان لوگوں کو تحفظ دینا کب سے شروع کر دیا جو ترکی میں بغاوت کی کوشش کرنے والے تھے؟” صدر ایردوان نے یاد دلایا کہ کوسوو کی سربیا سے آزادی پر ترکی اس کی حمایت میں ایک زبردست آواز تھی۔

ترک صدر نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ کوسوو کی عوام اس فیصلے کو قبول نہیں کرتے کیونکہ سیاست ریموٹ کنٹرول کے ذریعے نہیں چل سکتی۔

ترک خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی کے مطابق مشتبہ افراد کے نام جہان اوزکان، کہرمان دمیرز، حسن حسین گوناکان، مصطفیٰ ایددم، عثمان کاراکایا اور یوسف کارابنا شامل ہیں، انہوں کوسوسو سے گرفتار کر کے خصوصی پرائیویٹ جہاز پر ترک نیشنل ایٹیلی جنس ایجنسی ترکی لائی۔

یہ مشتبہ افراد فتح اللہ گولن کے تحت کوسوو میں چلنے والے پرائیویٹ اسکول نیٹ ورک گولنستان اور محمد عاکف کے انچارج تھے۔

یہ انچارچ خطے میں فتح اللہ گولن کی سرگرمیاں چلا رہے تھے اور ترکی سے فتح اللہ گولن تنظیم کے ممبران کو امریکہ اور یورپ میں بھیجتے تھے جہاں فتح اللہ گولن ایک مضبوط نیٹ ورک کے ساتھ موجود ہے۔

کوسووار وزرات داخلہ کے مطابق تمام مشتبہ افراد کے رہائشی پرمٹ منسوخ ہو چکے تھے جبکہ کوسوو وزرات قانون کے مطابق وزرات کسی بھی غیر ملکی کے سیکیورٹی، کرمینل، طبی، عوامی، اخلاقی یا انسانی حقوق کے خطرے کے پیش نظر رہائشی پرمٹ منسوخ کر سکتی ہے۔

پاکستان میں بھی فتح اللہ گولن دہشتگرد تنظیم کے تحت چلنے والے پرائیویٹ پاک ترک اسکولز سے منسلک ترک اسٹاف کے رہائشی پرمٹ منسوخ کر دئیے گئے تھے لیکن پاکستانی عدالتوں نے انہیں محفوظ راستہ دیتے ہوئے حکم نامہ منسوخ کر دیا تھا جس کی وجہ سے ان اداروں سے وابستہ لوگ یورپ فرار ہو گئے یا پاکستان میں ہی روپوش ہو گئے۔

فتح اللہ گولن دہشتگرد تنظیم ترکی کی 15 جولائی 2016 کی بغاوت میں ملوث تھی جس میں اس گروپ سے وابستہ فوجی عناصر نے جمہوری حکومت کے خلاف خونی بغاوت کی اور تنظیم سے منسلک دیگر اداروں میں افراد نے انہیں مدد پہنچانے کی کوشش کی۔ لیکن ترک عوام کی تاریخ ساز مزاحمت سے یہ بغاوت ناکام ہو گئی۔

تبصرے
Loading...