ایردوان کا بلومبرگ گلوبل بزنس فورم میں اظہار خیال

0 155

شام میں کرد پی وائے ڈی/ وائی پی جی جیسی دہشتگرد تنظیموں کوامریکا کی طرف سے اسلحہ دئیے جانے بارے سوالات پر ترک صدر رجب طیب ایردوان نے بلومبرگ بزنس فورم میں جواب دیتے ہوئے کہا: "بحثیت ترکی ہمیں یہ پوچھ رہے ہیں کہ اس بات کی کون ضمانت دے گا کہ شام میں آج جو وسیع پیمانے پر بھاری اسلحہ تقسیم کیا جا رہا ہے وہ کل ہمارے خلاف استعمال نہیں ہوگا؟ ہمیں اس پر تشویش ہے اور اس حل کیا جانا چاہیے۔ مزید برآں ہم امریکا کے ساتھ اسٹریٹجک اتحاد رکھتے ہیں”۔

ترکی کی داعش کے خلاف فتح

کرد پی وائے ڈی/ وائی پی جی جیسی تنظیم جن کے ساتھ مل کر امریکا داعش کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے در اصل دھشت گرد تنظیم اس لیے کہ یہ کرد پی کے کے کی تو سیع ہے۔ صدرایردوان نے کہا: "مجھے یہ بات نہیں سمجھ سکا کہ ایک ملک جو جمھوریت میں یقین ر کھتا ہو وہ کیسے ایک دہشت گرد تنظیم کو ختم کرنے کے لیے دوسری دہشت گرد تنظیم کی معاونت کر سکتا ہے”۔
ترکی کی دھشت گردی کے خلاف جنگ میں فتوحات کے متعلق بتاتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ داعش کے خلاف جنگ میں اب تک ترکی کی مسلح افواج بغیر کسی بیرونی تعاون کے تین ہزار کےزائد دہشت گردوں کو ہلاک اور ان کے قبضہ سے دو ھزار کلو میٹر علاقہ جرابلس، دابق اور الباب میں واگزار کروایا جا چکا ہے۔

امریکا کی کرد پی وائے ڈی/ وائی پی جی کو ہتھیاروں کی فراہمی

امریکا کی طرف سے کرد پی وائے ڈی/ وائی پی جی کو اسلحہ کی فراہمی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد تنظیم کو شام میں تین ہزار اسلحہ و بارود کےتین ہزار ٹرک دئیے گئے ہیں جس میں ٹینک، تو پ خانے اور بکتر بند گا ڑیاں شامل ہیں ۔ ایردوان نے پوچھا کہ اس بات کی کون ضمانت دے گا کہ شام میں آج جو وسیع پیمانے پر بھاری اسلحہ تقسیم کیا جا رہا ہے وہ کل ہمارے خلاف استعمال نہیں ہوگا؟ ہمیں اس پر تشویش ہے اور اس حل کیا جانا چاہیے۔ مزید برآں ہم امریکا کے ساتھ اسٹریٹجک اتحاد رکھتے ہیں۔۔ جرمنی، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ نیٹو اتحاد میں شامل ہیں۔ دھشت گرد تنظیم کیساتھ روابط رکھنے پر یہ اتحاد مزید جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ یہ میرا فرض ھے کہ اس فرق کو واضح کروں”۔

ترکی شمالی عراق میں آزاد کردستان کی اجازت نہیں دے گا

عراقی کردستان کی مقامی حکومت کی جانب سے منعقدہ آزادی کردستان کے ریفرینڈم کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے طیب ایردوان نے یاد دلایا کہ ترک قومی سلامتی کونسل کا اجلاس اس ماہ کی 22 سے 27 تاریخ تک منعقد ہونے جا رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس اجلاس میں غور و خوض کے بعد قومی سلامتی کونسل اس مسئلے پہ اپنی سفارشات حکومت کو جمع کروائے گی۔ حکومت ان سفارشات کو وزراء کونسل کے اجلاس میں زیرغور لانے کے بعد اس حوالے سے اپنا فیصلہ کرے گی جس کا اعلان اجلاس کے بعد کر دیا جائے گا۔
تاہم طیب ایردوان نے واضح کیا کہ شمالی عراق میں ایک آزاد ملک کے مطالبے کی اجازت دینا یا اس کی حمایت کرنا ناممکن ہے۔ انھوں نے کہا کہ شمالی عراق میں صرف کرد نہیں رہتے بلکہ ترکمانی اور عرب بھی وہیں کے باشندے ہیں چنانچہ کسی ایک نسل کے حقوق کے نام پہ دیگر نسلوں کی حق تلفی کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔

نیٹو ممالک سے مطلوبہ ہتھیار نہ ملنے کی صورت میں ترکی کو خود اپنا بندوبست کرنا ہوگا

روس سے s-400 ہتھیار خریدنے کے ترکی کے منصوبے پر جاری حالیہ تنقید کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا تھا کہ اکثر نیٹو ممالک کے پاس s-400 سے بھی زیادہ طاقتور اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں، جبکہ کئی ممالک کے پاس تو تباہ کن نیوکلیئر ہتھیار بھی ہیں، اس پہ کوئی اعتراض کیوں نہیں کیا جاتا؟
انھوں نے کہا کہ چونکہ ترکی کی سرحد کے بالکل ساتھ شام میں بڑے پیمانے پہ s-400 لائے جا رہے ہیں چنانچہ ترکی کے لیے بھی ناگزیر ہے کہ وہ نہ صرف s-400، بلکہ s-500 اور s-600 ہتھیار خریدنے کی کوششیں بھی جاری رکھے۔ اپنے دفاع کے لیے یہ اقدامات اٹھانا ضروری ہیں۔ بطور ملکی رہنما آٹھ کروڑ ترک عوام کا تحفظ یقینی بنانا ہمارے فرائض میں شامل ہے چنانچہ ہم اس حوالے سے ہر ضروری قدم اٹھائیں گے۔
صدر نے زور دیا کہ اگر نیٹو ممالک نے مطلوبہ ہتھیاروں کے حوالے سے ترکی سے تعاون نہ کیا تو ہمیں اپنا انتظام خود کرنا ہوگا۔

 یورپی یونین نے اپنے وعدے وفا نہیں کیے

یورپی یونین کے چند عہدے داروں کے اس بیان کہ "ترکی یورپی یونین سے دور ہوتا چلا جا رہا ہے” کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ ترکی نے 1963 میں یورپی یونین کی باقاعدہ ممبرشپ کے لیے درخواست دی تھی لیکن 54 سال گزرنے کے باوجود ترکی کو یونین کے دروازے ہی پر کھڑا رکھا گیا ہے۔ ترکی کے ساتھ یہ سلوک دراصل سیاسی تعصب کا آئینہ دار ہے۔ یہ ترکی کے تشخص کی توہین ہے۔ انھوں نے اس رویے کو یورپی یونین کے بلندوبانگ دعووں کے خلاف قرار دیا۔
طیب ایردوان نے شکوہ کیا کہ ترکی کے حوالے سے یورپی یونین نے جو موقف اپنا رکھا ہے وہ اس نے کسی اور ملک کے لیے نہیں اپنایا۔ یورپی یونین نے نہ صرف ترک عوام کے لیے ویزوں میں نرمی کے وعدے سے انحراف کیا بلکہ ترکی میں مقیم پناہ گزینوں کی امداد کے لیے اب تک 6 ارب یورو کی طے شدہ رقم بھی ادا نہیں کی گئی۔ صدر ایردوان نے اس پر سوال کیا کہ یہ کیسی ایمانداری ہے جو یورپی یونین نے اپنا رکھی ہے؟
اس سوال کے جواب میں کہ ترکی ان سب وعدہ خلافیوں کے باوجود یورپی یونین میں شمولیت کے لیے مذاکرات کا سلسلہ ختم کیوں نہیں کر دیتا، صدر طیب ایردوان کا کہنا تھا کہ ترکی یورپی یونین میں شمولیت کے حوالے سے بات چیت سے فرار اختیار نہیں کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہم کبھی مذاکرات کی میز سے بھاگے نہیں ہیں، ہم یہ کام انھیں (یورپی یونین کو) کرنے دینا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ یورپی یونین میں ترکی کے مستقبل کے حوالے سے اپنے عزائم ظاہر کر دیں تاکہ پھر ہمیں بھی فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔

تبصرے
Loading...