ایردوان اور ٹرمپ کا ٹیلی فونک رابطہ، شام میں سیف زون بنانے اور ترکی امریکہ معاشی تعلقات مضبوط کرنے پر اتفاق

0 923

ترک صدر رجب طیب ایردوان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان سوموار کی شام شام کی تازہ ترین صورتحال، امریکی فوجیوں کے انخلاء اور دو طرفہ تعلقات پر ٹیلیفونک بات چیت ہوئی-

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ کسی قسم کے عناصر کو امریکی فوجیوں کے انخلاء کو روکنے کی اجازت نہیں دیں گے جبکہ شمالی شام میں دہشتگردی فری سیف زون بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا-

فون کال میں ترک صدر ایردوان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ترکی کو کردوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے- اس کا مقصد خطے سے دہشتگرد گروہوں کا خاتمہ ہے جس میں داعش، پی کے کے اور اس کی شامی شاخیں وائے پی جی اور پی وائے ڈی شامل ہیں-

ایردوان نے مزید کہا کہ ترکی امریکی فوجیوں کے انخلاء کے فیصلے کی پشت پر تھا اور اس معاملے میں ہر قسم کی مدد کرنے کو تیار تھا-

ٹرمپ اور ایردوان نے منبج روڈ میپ کی اہمیت پر بھی بات کی جس سے اتھارٹی کے خلاء کو روکنا اور اس ضمن میں عوام کے ساتھ اچھے روابط رکھنا ضروری ہو گا-

دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ معاشی تعلقات کو مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا-

سوموار کے دن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کہا تھا کہ امریکہ طویل عرصے سے رکے ہوئے انخلاء کا آغاز کر رہا ہے اور داعش کے دوبارہ واپسی کی صورت واشنگٹن قریبی ائیر بیسز کے ذریعے حملے کرے گا-

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ معاشی طور پر تباہ کر دے گا اگر ترکی نے امریکی حمایت یافتہ کرد تنظیم وائے پی جی کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا-
ڈونلڈ ٹرمپ کے ان ٹویٹس پر ترک اعلیٰ حکام نے فوری ردعمل جاری کیا اور کہا کہ وہ ان دھمکیوں سے دب نہیں جائیں گے اور کردوں کو ان دہشتگردوں تنظیموں سے الگ قرار دیا-

تبصرے
Loading...