ایردوان اور ٹرمپ جاپان میں ‏جی-20 میں ملاقات پر رضامند

0 487

صدر رجب طیب ایردوان اور اُن کے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ایک فون کال پر دوطرفہ اور علاقائی معاملات پر تبادلہ خیال کیا اور جون میں جاپان میں ہونے والے G20 اجلاس کے موقع پر ملاقات پر رضامندی ظاہر کی۔

فون کال میں ایردوان نے انقرہ کی جانب سے روسی S-400 میزائل ڈیفنس سسٹمز کے حصول کے حوالے سے خدشات سے نمٹنے کے لیے ایک جوائنٹ ورکنگ گروپ بنانے کی تجویز دی، ترک صدارت کے کمیونی کیشنز ڈائریکٹر فخر الدین آلتن نے ایک بیان میں کہا۔

مزید برآں، صدر ایردوان نے ترک اسٹیل پر اضافی ٹیرف کے خاتمے کے امریکی فیصلے کا خیرمقدم کیا اور زور دیا کہ یہ دونوں ممالک کو باہمی تجارت کا 75 ارب ڈالرز کا ہدف حاصل کرنے میں مدد دے گا۔

حالیہ چند ماہ میں واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان تناؤ اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے کیونکہ ترکی جدید S-400 روسی زمین سے فضاء میں مار کرنے والے دفاعی نظام کے حصول کے لیے تیار ہے، جس کے بارے میں امریکا کا کہنا ہے کہ وہ امریکی F-35 لڑاکا جیٹ پروگرام میں ترکی کے کردار کو خطرے میں ڈال دے گا اور کانگریس کی جانب سے پابندیوں کا سبب بن سکتا ہے۔

امریکا اب بھی ترکی کو روسی ساختہ میزائل خریدنے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن انقرہ بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ اس معاہدے کو عملی جامہ پہنائے گا۔

علاقائی اور عالمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ جو ترکی کی قومی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں، امریکا کی جانب سے بارہا ترکی کو پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے سے انکار کے بعد ترکی نے اپنی ایئر ڈیفنس سسٹم کی ضروریات کو روس کے ذریعے پورا کرنے کا فیصلہ کیا اور دسمبر 2017ء میں ماسکو کے ساتھ 2.5 ارب ڈالرز کا معاہدہ کیا۔

امریکی عہدیداروں نے ترکی کو ماسکو سے S-400 خریدنے کے بجائے امریکی پیٹریاٹ میزائل سسٹم حاصل کرنے کا مشورہ دیا، جس کا کہنا ہے کہ روسی سسٹم نیٹو کے سسٹمز کے ساتھ موافق نہیں ہوگا اور F-35 کو روسی گرفت میں لے آئے گا۔

امریکی دعووں کے مقابلے میں ترکی نے S-400 سسٹم پر تکنیکی خدشات سے نمٹنے کے لیے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دینے کی تجویز دی لیکن امریکا نے اب تک ترکی پیشکش کا جواب نہیں دیا۔

البتہ ترکی نے زور دیا کہ S-400 کو نیٹو سسٹمز میں شامل نہیں کیا جائے گا اور یہ اتحاد کے لیے خطرہ نہیں ہوگا۔

تبصرے
Loading...