ایردوان اور ٹرمپ کے درمیان شام میں حالیہ پیش رفت پر بات چیت

0 1,060

ترک صدارتی ذرائع کے مطابق ترک صدر رجب طیب ایردوان اور ان کے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ نے دوما کیمیائی حملے کے بعد شام میں پیش رفت اور سیاسی بحران پر تبادلہ خیال کیا ہے-

ذرائع نے مزید کہا کہ صدور نے کیمیکل حملوں بارے تبادلہ خیال کیا۔

یہ فون کال دونوں ریاستی سربراہاں کے درمیان ایک ماہ سے کم عرصہ کے دوران تیسرا رابطہ تھا۔

یہ کال امریکہ، یوکرائن، فرانس اور دیگر ممالک سے بڑھتے ہوئے بیانات کے بعد ہوئی جس میں کیمیکل حملے کے جواب میں فوجی حملوں کو دھمکی دی رہی ہے۔ شامی رجیم کی جانب سے ہونے اس کیمیائی حملے میں 40 افراد شہید جبکہ 500 سے زاائد زخمی ہوئے تھے۔

بشار الاسد اور اس کی اتحادی روس نے اس طرح کے حملے کا انکار کر رہے ہیں۔

ٹرمپ نے بدھ کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ شام کے مشتبہ کیمیائی حملے کے جواب میں میزائل "آئیں گے”۔ مزید کہا کہ "تیار ہو جاؤ روس، کیونکہ وہ آ رہے ہیں، اچھے اور نئے اور ‘طرار’!”

برطانوی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ وزیراعظم تھریسا نے برطانوی سب میرین کو شام کے میزائل رینج میں لے جانے کا حکم دیا ہے تاکہ وہ جارحانہ طور جمرات کی شب حملہ کر سکیں۔

فرانس اور سعودی عرب کے رہنماؤں نے یہ بھی بیان دیا ہے کہ وہ بشارالاسد کے خلاف فوجی حملوں کی حمایت کریں گے۔

روسی پارلیمانی دفاعی کمیٹی کے سربراہ ولادیمیر شرمنوف  نے ترکی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی نے روس اور امریکہ کے درمیاں اس بحران میں ثالثی کے طور پر اہم کردار ادا کیا ہے۔

شرمنوف نے کہا، "امریکہ اور روس کے فوجی سربراہان کے درمیان بات چیت شروع ہو چکی ہے۔ یہ رابطہ ہمارے ترکی میں ہم منصب کی وجہ سے ممکن ہو پایا ہے”۔

تبصرے
Loading...