ترکی ادلب سے بشار الاسد کو نکال کر دم لے گا، ترک صدر ایردوان نے ٹرمپ کو بتا دیا

0 1,228

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے جمعہ کی شام امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنے فوجیوں پر حملے کے بعد ترکی اب بشار الاسد کو ادلب سے نکال کر دم لے گا۔

ترک صدارتی بیان کے مطابق ایردوان نے ٹرمپ کو بتایا کہ ترکی نے جمعرات کے روز ہونے والے حملے جس میں 33 ترک فوجی ہلاک ہوگئے ہیں اس پر جوابی کارروائی کی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر (ایردوان) نے ادلب میں سوچی میمورنڈم کے تحت طے شدہ علاقے کو اسدی عناصر سے پاک کرنے کے اپنے ملک کے عزائم کا اعادہ کیا۔

اس میں مزید کہا گیا کہ دونوں صدور نے ادلب میں انسان سوز بحران کو روکنے کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت پر اتفاق کیا۔

ادھر، وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے اسدی حکومت کی طرف سے حملے کی مذمت کرتے ہوئے ترک فوجیوں کی شہادتوں پر اظہار تعزیت کیا۔

ٹرمپ نے ترکی کی طرف سے ادلب میں صورتحال کو بہتر بنانے اور انسانیت سوز تباہی سے بچنے کی کوششوں کے لئے امریکی حمایت کا اعادہ کیا۔

ایردوان اور ٹرمپ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اسدی حکومت اور اس کے اہم حمایتی، روس اور ایران کو لازمی طور پر ادلب پر اپنے فوجی حملے کو روکنا چاہئے۔

ترک فوجیوں پر حملوں کے بعد شامی حزب اختلاف کے حامی ترکی، بشارالاسد اور اس کے اتحادی روس کے مابین کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

حالیہ بحران شام کے ادلب صوبے، جو شام میں شامی حزب اختلاف کے زیر قبضہ آخری مضبوط گڑھ ہے، اس صوبے کو روسی حمایت یافتہ بشار الاسد کی طرف سے دوبارہ قبضہ کرنے کے لئے فوجی مہم جوئی سے شروع ہوا ہے۔ یکم دسمبر سے شروع ہونے والے اس حملے کے نتیجے میں شام کی نو سالہ جنگ میں بے گھر ہونے کی سب سے بڑی لہر شروع ہوگئی ہے، جس نے تقریباً 950،000 افراد کو اپنی جان کی حفاظت کے لیے ترکی سرحدی علاقوں کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

اس مہم جوئی کے آغاز سے اب تک ادلب میں 54 ترک فوجی شہید ہوچکے ہیں ، جن میں تازہ ترین شہادتیں بھی شامل ہیں۔

تبصرے
Loading...