نیٹو لندن اجلاس کے موقع پر ایرودان ٹرمپ ملاقات

0 315

صدر رجب طیب ایردوان نے لندن میں منعقدہ نیٹو رہنماؤں کے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دوبدو ملاقات کی۔

دونوں رہنماؤں نے مرکزی سیشن کے بعد بند کمرے میں نصف گھنٹہ ملاقات کی۔

ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو، وزیر خزانہ بیرات البیراک، وزیر دفاع خلوصی آقار، سابق وزیر اعظم بن علی یلدرم اور صدارتی ترجمان ابراہیم قالین بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔

صدر کے کمیونی کیشنز ڈائریکٹر فخر الدین آلتن نے ٹوئٹر پر بتایا کہ یہ ملاقات "بہت سیر حاصل” تھی۔

قبل ازیں صدر ایرودان نے نیٹو اجلاس کے باضابطہ آغاز سے قبل فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔

اجلاس جو 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں ہوا جس میں صدر ایردوان، ان کے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئیل ماکروں، جرمن چارلس انگیلا مرکیل اور برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے شرکت کی، تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہا۔

ان چار ممالک نے شامی بحران پر گفتگو کی جبکہ شمالی شام میں دہشت گرد PKK عناصر یعنی پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) کے خلاف ترکی کے فوجی آپریشن کے موضوع پر بھی بات ہوئی۔

ترکی نے 9 اکتوبر کو شمالی شام میں دریائے فرات کے مشرقی علاقوں سے YPG دہشت گردوں کے اخراج کے لیے آپریشن چشمہ امن کا آغاز کیا تھا تاکہ ترکی کی سرحدوں کو محفوظ بناتے ہوئے شامی مہاجرین کی ان علاقوں میں واپسی اور شام کی علاقائی سالمیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

امریکا اور روس کے ساتھ ہونے والے جدا جدا معاہدوں کے تحت ترکی نے مجوزہ سیف زون سے YPG دہشت گردوں کے انخلاء کو یقینی بنانے کے لیے آپریشن کو عارضی طور پر روک رکھا ہے۔

انقرہ چاہتا ہے کہ YPGدہشت گرد اس علاقے سے نکل جائیں تاکہ ایک سیف زون تشکیل دیا جا سکے کہ جو ترکی سے 20 لاکھ شامی مہاجرین کی محفوظ انداز میں واپسی کی راہ ہموار کرے۔

ترکی کے خلاف اپنی 30 سال سے زیادہ طویل مہم میں PKK بچوں اور عورتوں سمیت تقریباً 40,000 افراد کی موت کی ذمہ دار رہی ہے۔ یہ تنظیم ترکی، امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے دہشت گرد قرار دی جا چکی ہے۔

نیٹو رہنماؤں کا یہ اجلاس اس موقع پر آیا ہے جب نیٹو کے چند بڑے اراکین کے مابین واضح تناؤ دیکھا جا رہا ہے اور ایسے تنازعات جنم لے چکے ہیں جو 29 ممالک پر مشتمل اس اتحاد کی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں۔

یہ رہنما نیٹو کے 70 سال مکمل ہونے پر اس اتحاد سے اپنی وابستگی کو ظاہر کرنے والا ایک اعلامیہ جاری کرنے والے ہیں کہ جو نئے خطرات اور ممکنہ طور پر چین جیسے نئے دشمنوں سے نمٹنے کے لیے تیاری کو ظاہر کرے گا۔

تبصرے
Loading...