ایردوان نے کردوں کے دل بھی جیت لئے

کرد اکثریت پر مبنی مشرقی صوبوں میں اردوان کی آق پارٹی نے پہلی بار کامیابی حاصل کرلی

0 299

ترکی میں اتوار کو منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات کا سب سے حیران کن پہلو ملک کے مشرقی حصے میں واقعے کرد اکثریتی صوبوں میں صدر رجب طیب اردوان کی آق پارٹی کی غیرمتوقع کامیابی ہے۔ توقعات کے بالکل برعکس کرد اکثریتی علاقوں میں کسی مقامی کرد نسل پرست جماعت کے بجائے قومی سیاست اور وحدت کی علمبردار آق پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ کرد خطے کی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان نتائج نے ایک نئی روایت کی بنیاد ڈالی ہے۔ لگتا ہے کہ کردوں نے انارکی، دہشت گردی اور تصادم کی سوچ کو مسترد کرتے ہوئے شہری سہولتوں سے آراستہ ایک اچھی زندگی اور قومی وحدت کا انتخاب کیا ہے۔ یاد رہے کہ ایردوان پچھلی دو دہائیوں سے کرد علاقوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور لگتا ہے کہ اس بار واقعی انہوں نے کردوں کے دل بھی جیت لئے ہیں۔

ملک کے کرد خطے پر گہری نظر رکھنے والے سینئر صحافی ازداق تکیت کا کہنا ہے کہ کرد نسل پرست جماعت ایچ ڈی پی کی تاریخی شکست کی وجہ پچھلے ادوار میں بلدیاتی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے بجائے دہشت گردوں کی معاونت تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ایچ ڈی پی سرکاری وسائل کو بلدیاتی اداروں کے بجائے بعض دوسری جگہوں پر استعمال کرتی تھی، جبکہ انکے کچھ بلدیاتی نمائندوں کی دہشت گرد تنظیم پی کے کے سے براہ راست رابطے بھی ہیں۔ ایچ ڈی پی کرد علاقوں کی انتظامی خودمختاری کا مطالبہ کرتی ہے اور انکی جماعت کے کئی رہنماوں پر دہشت گرد تنظیموں کی مدد کے سنگین الزامات بھی ہیں۔ تکیت کا کہنا تھا کہ خطے کے لوگ، ٹرسٹی ایز پر مبنی عبوری بلدیاتی انتظامیہ کی کارکردگی سے کافی متاثر ہوئے ہیں۔ ٹینکو کریٹ پر مبنی یہ ٹرسٹی ایز ایردوان حکومت نے تعینات کئے تھے۔

نامور استاد اور محقق ادریس کرداس کہتے ہیں کہ ایردوان حکومت کی براہ راست نگرانی میں کام کرنے والے ٹرسٹی ایز کی کوششوں سے پہلی بار جنوب مشرقی ترکی کی مقامی آبادی کی روز مرہ کی زندگی میں بہتری پیدا کی ہے۔ انہوں نے صاف پانی کی فراہمی، نکاسی آب، صحت و صفائی اور مواصلات کے نظام میں انقلابی اقدامات اٹھائے اور سالوں کا مہینوں میں کردکھایا تھا۔ جبکہ اس سے قبل نسل پرست جماعتوں نے کبھی عوام کی خدمت کو اپنا متمع نظر نہیں بنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح لوگوں کو سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کے تقابل کرنے کا موقع ملا اور انہوں نے اس جماعت کے حق میں فیصلہ کیا، جس نے انکی سب سے زیادہ خدمت کی۔

تبصرے
Loading...