طیب ایردوان کے دورۂ پاکستان سے باہمی تجارت بڑھنے کا امکان

0 539

ترک صدر رجب طیب ایردوان کا دورۂ پاکستان نہ صرف دونوں ممالک کے مابین اقتصادی تعاون کو بہتر بنانے میں مدد دے گا بلکہ دو طرفہ باہمی تجارت کو بھی بڑھائے گا۔

صدر رجب طیب ایردوان جمعرات کو دور روزہ دورے پر دارالحکومت اسلام آباد پہنچ رہے ہیں جو 2002ء کے بعد سے اب تک ان کا چوتھا دورۂ پاکستان ہے۔ اعلیٰ سطحی سفارتی وفد کے ساتھ ساتھ اس دورے پر ممکنہ طور پر 60 ترک کاروباری شخصیات اور سرمایہ کار بھی صدر ایردوان کے ہمراہ ہوں گے۔

کراچی کی کاروباری شخصیت اور ترکی-پاکستان بزنس کونسل کے صدر عبد الرشید ابڑو نے کہا کہ "صدر ایردوان کا دورہ پاکستان کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے ، بالخصوص ایسے وقت میں جب ملک کو معاشی لحاظ سے سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ بدقسمتی سے دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم ان کی حقیقی صلاحیت سے کہیں کم ہے۔ بلاشبہ حالیہ اقتصادی تعاون، جس میں پاکستان میں ترکی کی سرمایہ کاری بھی شامل ہے، بہتر ہوا ہے لیکن اب بھی کافی گنجائش موجود ہے۔ میرے خیال میں ان کا دورہ دو طرفہ تجارتی حجم کو بڑھانے کا سنہری موقع ہے۔”

انہوں نے کہا کہ پاکستانی کاروباری شخصیات وزیر اعظم عمران خان سے توقع رکھتی ہیں کہ وہ ایک تجارتی وفد کے ساتھ ترکی کا دورہ کریں گے تاکہ سرکاری و نجی دونوں سطحوں پر دو طرفہ اقتصادی تعاون کو بہتر بنایا جائے۔

پاک-ترکی تجارتی حجم اس وقت 900 ملین ڈالرز ہے۔ ترکی اور پاکستان اسٹریٹجک اکنامک فریم ورک (SEF) میں بندھے ہوئے ہیں جو دو طرفہ تجارت کا حجم بڑھانے کا ہدف رکھتا ہے۔ پچھلے سال انقرہ نے SEF پر اپنی تجاویز اسلام آباد کو پیش کی تھیں تاکہ دو طرفہ تجارت کی موجودہ سطح میں پانچ گنا اضافہ کیا جائے۔

SEF میں تقریباً 71 قابلِ عمل معاملات شامل ہیں جن میں آزاد تجارت کا معاہدہ، ٹیکنالوجی کی منتقلی، صلاحیتوں میں اضافہ اور دفاعی تعاون شامل ہیں۔

عمران خان نے رواں ماہ کہا تھا کہ صدر ایردوان کا دورہ جامع ہوگا اور پاکستان متعدد شعبوں میں ترکی کا تعاون چاہے گا۔ انہوں نےکان کنی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو اہم شعبے قرار دیا اور کہا کہ دو طرفہ تجارت اور اقتصادی تعلقات بنیادی مقاصد ہیں۔

مواقع اور امکانات

کراچی کی ایک اور کاروباری شخصیت فاروق افضل پاکستان میں سیاحت اور تعمیراتی شعبوں میں ترک سرمایہ کاروں کے لیے "بڑے مواقع” دیکھتے ہیں۔ "پاکستان فطری حسن کا زبردست خزانہ رکھتا ہے۔ لیکن ہم بنیادی ڈھانچے کے لحاظ سے کافی پیچھے، جبکہ ترک ادارے اس شعبے میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ پاکستان اپنی مشکلات سے دوچار معیشت کو سیاحت کی صنعت کے ذریعے سنبھال سکتا ہے، اور ترکی جو 40 ارب ڈالرز سیاحت سے حاصل کرتا ہے، اس سلسلے میں بھرپور مدد کر سکتا ہے۔”

پاکستان میں پہلے ہی 9 ترک ادارے سرمایہ کاری کر چکے ہیں، لیکن افضل کا کہنا ہے کہ حقیقی مواقع اب بھی ترک سرمایہ کاروں کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد تجارت کے معاہدے (FTA) پر دستخط سے انقرہ اور اسلام آباد باہمی تجارت کے حجم کو واقعی بڑھا سکتے ہی۔ "ہمیں امید ہے کہ صدر ایردوان FTA کے حوالے سے کوئی بڑا اعلان کریں گے۔”

ناصر خان ترک کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے نائب صدر ہیں، جن کا کہنا ہے کہ ترکی کی گھریلو برقی مصنوعات پہلے ہی پاکستانی مارکیٹ تک پہنچ چکی ہیں۔ "ترک برانڈز یورپی برانڈز کے برابر ہیں۔ اگر انہیں مقامی سطح پر بنایا جائے تو مزید بڑی مارکیٹ حاصل کی جا سکتی ہے۔”

ترک کمپنی آرچیلک نے پاکستان میں گھریلو برقی مصنوعات کا معروف ادارہ ڈاؤلینس 2016ء میں 258 ملین ڈالرز میں خریدا تھا۔

بڑھتا ہوا دفاعی تعاون

انقرہ اور اسلام آباد کے مابین حالیہ چند سالوں میں دفاعی تعاون بھی بڑھا ہے۔ اکتوبر 2018ء میں ترک دفاعی ادارے کے تعاون سے بنایا گیا 17,000 ٹن کا ایک فلیٹ ٹینکر پاک بحریہ کے سپرد کیا گیا تھا۔

یہ کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس میں بنایا گیا اب تک کا سب سے بڑا جنگی بحری جہاز تھا۔ اس منصوبے کی تکمیل ترک دفاعی ادارے STM کے تعاون سے مکمل ہوئی۔

جولائی 2018ء میں انقرہ نے پاک بحریہ کے لیے چار چھوٹے بحری جنگی جہاز کے لیے کئی ارب ڈالرز کا سودا حاصل کیا۔ اس وقت کے ترک وزیر دفاع نور الدین جانکلی نے اسے ترکی کی دفاعی صنعت کی تاریخ کا سب سے بڑا سودا قرار دیا تھا۔

2016ء میں ترکی نے پاکستان کو 34 عدد T-37 طیارے فراہم کیے تھے۔

ساتھ ہی انقرہ پاکستان سے MFI-17 سپر مشاق ہوائی جہاز خرید رہا ہے، ساتھ ہی تین پاکستانی آبدوزوں کو اپ گریڈ کرنے کے ساتھ ساتھ مل کر ایک فلیٹ ٹینکر بھی بنا رہا ہے۔

ترکی مقامی طور پر بنایا گیا T129 ہیلی کاپٹر ATAK بھی پاکستان کو برآمد کرے گا۔ دونوں ممالک نے جولائی 2018ء میں 36 ایسے ہیلی کاپٹرز کی فروخت کے معاہدے کو حتمی صورت دی تھی۔

تبصرے
Loading...