ایردوان اگلے ہفتے روس کا دورہ کریں گے

دورہ روس کے دوران ترک صدر پیوٹن سے اہم ملاقات کے بعد "ترک و روس بین الثقافتی سال" کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔

0 511

(انقرہ – میڈیا رپورٹ) ترک صدر رجب طیب ایردوان بدھ کے روز ماسکو پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پیوٹن کیساتھ ایک اہم ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں خطے کے مفادات، دو طرفہ امور اور S-400 کی خریداری کے معاملے پر گفت و شنید ہوگی۔

دورہ روس کے دوران ترک صدر ماسکو کے مشہور تھیٹر "بلوشی” میں منعقدہ "ترک و روس بین الثقافتی سال” کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔ اس سرگرمی کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور سیاحتی سرگرمیوں اور رابطوں کو فروغ دینا ہے۔ اس دوران وہ بلوشی تھیٹر میں ٹرائے اوپرا کی پرفارمنس سے بھی لطف اندوز ہونگے۔

ترکی میں تعینات روسی سفیر نے خبررسال ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا "یہ خاص سال، بلاشبہ دونوں ملکوں کو ایک ایسا موقع فراہم کرے گا، جس میں وہ ایک دوسرے کو پہلے سے بہتر جان اور سمجھ سکیں گے۔ ایسا موقع جس میں وہ اپنی شاندار ثقافت کی نمائش کریں اور ہمسایہ ملک کی ثقافت سے روشناس ہوں”۔ سفیر نے بتایا کہ ان سرگرمیوں کی افتتاحی تقریب میں دونوں ممالک کے صدور شریک ہونگے۔ انکا کہنا تھا کہ اس موقع پر پہلی بار روس کے کسی تھیٹر میں ترک اوپرا اپنے فن کا مظاہرہ کرے گا۔

ایجنڈے کے مطابق ایردوان "ترک و روس اعلی سطحی تعاون کونسل” (UDIK) کے اجلاس میں بھی شریک ہونگے۔ یہ اجلاس 2010 سے ہر سال منعقد ہوتا ہے۔ دورے کا سب سے اہم پہلو دونوں صدور کی ملاقات ہوگی۔ توقع کی جارہی ہے کہ ایردوان ـ پیوٹن ملاقات میں S-400 کی فراہمی کا معاہدہ ختم کرنے کیلئے جاری امریکی دباو سمیت کئی حساس معاملات زیربحث آئیں گے۔ واضع رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکہ نے ترکی کو F35 طیاروں کی فروخت کا سلسلہ روک دیا تھا۔ یہ پہلا واقعہ ہے کہ امریکہ نے کسی نیٹو رکن کو طیاروں کی طے شدہ کھیپ روکی ہو۔

دونوں رہنما اکیوا نیوکلیئر پاور پلانٹ اور ترک اسٹریم گیس سمیت تمام بڑے مشترکہ منصوبوں کا بھی جائزہ لیں گے۔ واضع رہے کہ روس کے جوہری توانائی کے قومی ادارہ "روسٹم” ترکی کے جنوبی صوبے مرسن میں ایک ایٹمی پاور پلانٹ لگارہا ہے۔ اکیو میں اس پلانٹ پر ترکی اور روس کے درمیان 2010 میں معاہدہ طے پایا تھا جبکہ اس پر کام کا سنگ بنیاد تین سال قبل اردوان اور پیوٹن نے مشترکہ ویڈیو کال کے زریعے رکھا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان ترک اسٹریم گیس کا منصوبہ بھی زیر تکمیل ہے جس کے مکمل ہونے کے بعد ترکی توانائی کی دولت سے مالا مال روس اور ان کے حصول کے خواہاں یورپی ممالک کے درمیان صاحب ضمانت راہ داری کی حیثیت حاصل کرلے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ چار مہینوں میں دونوں رہنماوں کی یہ چوتھی ملاقات ہوگی۔ اس قبل 2018 میں بھی ایردوان اور پیوٹن سات بار ملاقات کرچکے ہیں جبکہ اسی عرصے میں ان کے درمیان 18 فون کالز بھی ہوئی تھیں۔

تبصرے
Loading...