ارطغرل غازی: پی ٹی وی ہوم پر یکم رمضان سے روزانہ ڈبنگ کے ساتھ ٹیلی کاسٹ کیے جانے کا اعلان

0 4,352

بالآخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں، وزیراعظم پاکستان عمران خان کی خواہش اور شائقین کے دباؤ نے کام کر دکھایا اور پی ٹی وی ہوم اب باقاعدہ طور پر ترکش ڈرامہ سیریل دریلش ارطعرُل، ارطغرل غازی کے نام سے یکم رمضان المبارک سے روزانہ ٹیلی کاسٹ کرنے جا رہا ہے۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے خصوصی ہدایت جاری کی تھی کہ ملک میں حقیقی اسلامی اقدار کے فروغ اور ہندوستانی سیزیز کے زور کو توڑنے کے لیے دریلش ارطعرل کو مکمل طور پر ڈبنگ کر کے پیش کیا جائے۔

پی ٹی وی کی نیشنل ڈائریکٹر مارکیٹنگ اینڈ ایٹریٹیجی صبا اطہر نے بتایا ہے کہ ارطغرل غازی’ پی ٹی وی ہوم پراردو ڈبنگ کے ساتھ یکم رمضان سے روزانہ رات ٩ بج کر ١٠ منٹ پر نشر کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ناظرین کی پُر زور فرمائش اور سہولت کے مدّ نظر ہر قسط رات بارہ بجے اور اگلے دن بارہ بجے repeat telecast ہو گی۔

اب تک یہ شاہکار پروڈکشن دنیا بھر میں بیس سے زیادہ ممالک میں نشر کی جا چکی ہے اور پاکستان ٹیلیویژن اپنے ناظرین کے لیے اسے یکم رمضان المبارک سے اردو زبان میں پیش کرنے جا رہا ہے۔

ترک ٹی وی سریز دریلش ارطعرُل کی نشریات کا آغاز 2014ء میں کیا گیا جو سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان غازی کے والد ارطعرل کے مرکزی کردار پر بنائی گئی ہے۔اس ڈرامہ سیریل میں ارطعرل کے والد سلیمان شاہ سے شروع ہوتے ہوئے ان کی انتقال اور پھر ارطعرل کی جدوجہد زندگی کے طویل عرصے کو سینکڑوں قسطوں پر محیط 5 سیزن میں پیش کیا گیا۔اس ڈرامہ سیریل کے خالق محمت بوذداع اور کمال تیکدن ہیں۔

ارتغل کا کردار ایک بہت مضبوط ایمان، اخلاق اور بہادری کا حامل ایک ایسا نوجوان ہے، جس کا دل جہاد کی محبت سے لبریز ہے، شہادت جس کی منزل ہے اور قبیلے کی روایات کا تحفظ جس کا فریضہ ہے، ایسا کردار کہ جو بھی دل میں ٹھان لیتا ہے، اسے پورا کرکے ہی دم لیتا ہے۔

اس کی بیوی حلیمہ کا کردار بھی ایک بہت مثبت اور مثالی کردار ہے، محبت، حلم اور بردباری کا شاہکار، جو ہماری ماؤں بہنوں کو ایک بہترین رستہ دکھا سکتا ہے۔اس کی ماں حائمہ کا کردار شاید سب سے زیادہ مؤثر ہے.ان خاتون نے جس طرح اپنے کردار میں ڈوب کر اس کو ادا کیا ہے، وہ بےمثال ہے۔ اگر بات اداکاری کی ہو، تو صرف مثبت ہی نہیں، منفی کرداروں نے بھی بہت اچھی پرفارمنس دے کر اس سیریز کو زندہ جاوید بنا دیا ہے۔

اس ڈرامہ سیریل میں سب سے اہم رخ ترکوں کا وہ جذبہ ہے، کہ وہ کس طرحعثمانیوں کی سلطنت کو عالم کے لئے رحمت بنا کر پیش کررہے ہیں۔ظلم، زیادتی اور جبر کے ماحول میں قدرت کی طرف سے بار بار اشارات کا اظہار کہ بس اب اس سلطنت کا ظہور ہونے ہی والا ہے، جو اس جبر اور زیادتی کے طوفان کو لگام ڈال دے گی۔

اس کے لئے انہوں نے ابن عربی اندلسی کے نام سے ایک قطب کا کردار تخلیق کیا ہے، جو تکوینی امور اور اشارات کی وجہ سے ارطعرل کے ہر مشکل میں روحانی طور پر مددگار رہتا ہے اور تنگی کے وقت میں اس کے کام آتا ہے۔وزیرعظم پاکستان عمران خان چونکہ خود اس خاکے میں فٹ بیٹھتے ہیں اس لیے دریلش ارطعرل میں وہ بھی اسلام کی نشات ثانیہ کے اپنےخواب دیکھتے ہیں۔ ترک اسلام اور جہاد کو نوعثمانیت کے ساتھ ملا کر "بحالیء عروج ” کا جو خواب دیکھ رہے ہیں، دریلش ارطعرل اس کا ایک مجسم ثبوت ہے. یہ ان کی ماضی سے کچھ زیادہ رجب طیب ایردوان کی قیادت میں ترکی کے مستقبل کا خواب ہے۔

تبصرے
Loading...