یورپی یونین کو مہاجرین پر ترکی کے تحفظات پر بات کرنا چاہیے، ڈچ وزیراعظم

0 1,514

ڈچ وزیر اعظم مارک روٹے نے جمعہ کے روز کہا کہ یورپی یونین کو شامی تارکین وطن سے متعلق  معاہدے کے بارے ترکی کے تحفظات پر تبادلہ خیال کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈچ وزیر اعظم سائیکل پر آفس جانے پر دنیا بھر میں معروف ہیں۔

ایک نیوز کانفرنس میں جب ان سے ترک صدر رجب طیب ایردوان کی طرف یورپ کی طرف جانے والے شامی مہاجرین کے لیے کھولنے کے بیان پر پوچھا گیا تو انہوں نے کہا، "مہاجرین کے معاملے پر یورپی یونین سے معاہدے کے نفاذ  بارے میں ترکی کی عدم اطمینان کا ازالہ کیا جانا چاہئے”۔

ڈچ وزیراعظم نے زور دیا کہ یہ مذاکرات ترکی اور یورپی یونین کے درمیان ہی ہونا چاہیں تاکہ فرداً فرداً تمام یورپی ممالک کو ترکی سے معاملات طے کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔

انقرہ اور برسلز نے شامی مہاجرین کی یورپی ممالک  آمد کا حل تلاش کرنے کے لئے سن 2016 میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے مطابق ، ترکی کو کل 6 ارب یورو کی مالی امداد کا وعدہ کیا گیا تھا ، جسے ابتدائی طور پر دو مراحل میں ملک کو دینے کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا جسے ترک حکومت کی طرف سے شامی مہاجرین کے لئے منصوبوں کی مالی اعانت کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ معاہدے کے تحت ترک شہریوں کو یورپی یونین کے ممالک کے لیے ویزا فری قرار دینے کا بھی وعدہ کیا گیا تھا۔

معاہدے پر بات کرتے ہوئے روٹے نے کہا کہ ترکی کو مالی اور عملی مدد حاصل کر چکا ہے۔

بدھ کے روز ترک صدر ایردوان نے متنبہ کیا تھا کہ اگر انقرہ کو اس کی طے شدہ مدد حاصل نہ ہوئی تو ترکی شامی مہاجرین کے لیے یورپ جانے والے سرحدی دروازے کھلے چھوڑ سکتا ہے۔

یووپی یونین نے ترکی میں شامی مہاجرین کے حالات زندگی بہتر بنانے کے لئے 6 ارب یورو (6.6 بلین ڈالر) کی امداد کا وعدہ کیا تھا ، لیکن ترکی کے مطابق ، جون کے مہینے میں صرف 2.22 بلین یورو (2.45 بلین ڈالر) کی فراہمی کی گئی تھی۔

ترکی میں اس وقت 3.6 ملین شامی مہاجرین رہ رہے ہیں جو دنیا  کے کسی بھی دوسرے ملک سے بہت زیادہ شامی مہاجرین کی تعداد ہے۔

تبصرے
Loading...