یہاں بغاوت کرنے والے، وہاں پہنچتے ہیں تو انہیں سیاسی پناہ ملتی ہے، ایردوان

0 1,659

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے امریکہ اور یورپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جنہوں نے میرے ملک میں بغاوت کی کوشش کی، آپ لوگ انہیں بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ ترکی کے حوالے کریں، وہاں پہنچنے والوں کو سیاسی پناہ دی جاتی ہے۔

صدر ایردوان نے یونان کی طرف اشارہ کیا جہاں ناکام بغاوت کرنے والے فوجی، ناکامی کے بعد ہیلی کاپٹر پر فرار ہو کر پہنچے تھے، انہیں ترکی کے حوالے کرنے کے بجائے سیاسی پناہ دے دی گئی۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان صدارتی کمپلیکس میں جسٹس کونسل سے خطاب کر رہے تھے۔

ایردوان نے کہا کہ ترک ملت اور حکومت 15 جولائی کے دن فتح اللہ گولن گروپ کی ناکام بغاوت کے دوران اور اس کے بعد عدل سے جڑی ہوئی ہے۔ مسائل کے باوجود ہم اپنے عدالتی نظام پر اعتماد کرتے ہیں۔

انہوں نے ناکام بغاوت کے بعد بیرون ملک سے ترکی کے عدالتی نظام پر سوال اٹھانے والوں کو کہا کہ جو ترکی پر تنقید کرتے ہیں وہ ہمارے ساتھ دہشتگردی کے عام کیسز میں بھی تعاون نہیں کرتے۔

صدر ایردوان نے عالمی طاقتوں کی منافقت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوریت، انصاف اور خوشحالی کے اس وقت محافظ بنتے ہیں جب وہ ان کے اپنے مفادات میں ہو۔

انہوں نے کہا: "جب امریکہ نے کہا، ترکی نے گذشتہ 15 سال میں 12 افراد امریکہ کے حوالے کئے کہ ان کو وہ دہشتگرد کہہ رہے تھے۔ ہم نے درخواستوں پر مثبت جواب دیا اور انہیں ان کے حوالے کیا۔ لیکن جب ہم نے گولن کی حوالگی کا کہا اور اس کے لیے 4500 فائلیں دیں تو انہوں نے حوالے نہیں کیا”۔

فتح اللہ گولن، فیتو کا مرکزی رہنما ہے اور 1999ء سے امریکہ میں رہ رہا ہے۔ اس کے نیٹ ورک سے جڑے لوگ ترک فوج، عدلیہ اور شعبہ تعلیم سمیت کئی اہم اداروں میں نفوذ کئے ہوئے تھے۔ 15 جولائی 2016ء کو اس سے فوج حصے نے فوجی بغاوت کی اور صدر ایردوان کو قتل کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام ہوئی۔ عوامی مزاحمت کے دوران 250 افراد شہید ہو گئے۔

تبصرے
Loading...