یورپ بوسنیا میں مر گیا اور شام میں دفن ہو گیا، ساحلوں پر مرے بچے یورپی تہذیب کے مقبرے پر لگی تختیاں ہیں، ایردوان

0 244

علیجاہ عزت بیگووچ کی 14ویں برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر ایردوان نے بتایا کہ 25 سال پہلے کا بوسنیا آج کے شام سے مختلف نہیں تھا۔ انہوں نے کہا: "انسانی حقوق، جمہوریت، قومی آزادی اور آزادی جو کبھی بوسنیا کے لئے بہت ضروری سمجھی جاتی تھیں، آج شامیوں، فلسطینیوں اور لیبیاؤں کے لیے سامان عیش و عشرت بن چکی ہیں جن کے بارے وہ سوچ تو سکتے ہیں لیکن پا نہیں سکتے۔ اگرچہ ظالم اور مظلوم تبدیل ہو چکے ہیں لیکن لیکن تماشائی وہی ہیں۔ یورپ بوسنیا میں مر گیا اور شام میں دفن ہو گیا۔ سمندر کے ساحلوں پر جو پانی نے معصوم بچوں کی لاشیں لا پھینکیں وہ یورپی تہذیب کے مقبرے پر لگی تختیاں ہیں”۔

بوسنیا کے پہلے صدر علیجاہ عزت بیگووچ کی 14ویں برسی پر ترک صدر نے ٹی آر ٹی پر ایک خصوصی سیریز "علیجاہ” کا افتتاح بھی کیا۔

علیجاہ دلوں کا فاتح تھا جس کے ایک طرف بوسنیا آدھا دل تھا تو دوسری طرف اسلامی دنیا نصف دل تھی

ترک صدر نے یاد دلایا کہ علیجاہ عزت بیگووچ ایک عظیم دانشور تھے جنہیں نوجوانی کی عمر میں قید کا سامنا کرنا پڑا اور وہ دلوں کے فاتح تھے جس کے ایک طرف بوسنیا آدھا دل تھا تو دوسری طرف اسلامی دنیا نصف دل تھی۔ صدر ایردوان نے کہا: "کیونکہ علیجاہ خاصیت کے اعتبار سے ایک سیاست دان نہیں تھا، وہ دانشور تھا اور کام کا دھنی تھا۔ علیجاہ حاضر و غیر موجود کا مجموعہ تھا”۔ مزید کہا: "اس کا کام "اسلامی اعلامیہ” 1970ء کے اداس ماحول میں لکھا گیا۔ علیجاہ لگمان پہاڑیوں جتنے اعتماد سے مجسم تھا۔ وہ میدان جنگ کا ایک بہادر سپاہی تھا، اپنے خاندان کا ایک ذمہ دار سربراہ، اپنے دوستوں کا ایک نادر دوست اور ایک عقلمند رہنماء جس نے اپنی قوم کو آزادی دلوائی”۔

ہم بوسنیا کو تحفظ فراہم کرنا اور ترقی دینا جاری رکھیں گے

انہوں نے یاد دلایا کہ جب وہ 2003ء میں آسٹریا سے ترکی واپس آ رہے تھے تو وہ علیجاہ عزت بیگووچ کی عیادت کے لیے ہسپتال گئے جہاں وہ اگلے دن وفات پا گئے تھے۔ ایردوان نے بتایا کہ عزت بیگووچ نے کہا: "یہ سرزمین عثمانیوں کی وراثت ہے، میرے بوسنیا کو تحفظ دو، میرے بوسنیا کا خیال رکھو”۔ ترک صدر نے کہا: "اگر اللہ نے ہماری مدد جاری رکھی تو ہم بوسنیا کے بھائیوں اور بہنوں سے مل کر بوسنیا کو ترقی دیں گے”۔

عزت بیگووچ کا سب بڑا کام بوسنیا ہے اور ان کی بڑی وراثت عظمت ہے

صدر ایردوان نے علی عزت بیگووچ کو ان الفاظ میں یاد کیا: "بلاشبہ ایسے عظیم شخص کو چند الفاظ میں بیان کرنا بہت مشکل ہے میرے لیے عزت بیگووچ کا سب سے بڑا کام بوسنیا ہے اور سب سے بڑی وراثت ان کی عظمت ہے علیجاہ کا ہر رویہ اور اظہار ان کے وقار، اعتماد اور حیا داری کا مجموعہ ہے کو مسلمانوں کے لیے مخصوص ہیں۔ علیجاہ نے بحثیت ایک مسلمان جنگ شروع کی، ہر مرحلے پر مسلمان رہے، انہوں نے جوانی میں کیمونسٹ رجیم کا جبر سہا اور 78 سال مرتے دم تک مسلمان کی شان کے ساتھ سانس لیے۔ انہوں نے کبھی اپنا عقیدہ، اپنی تہذیب اور اپنی بوسنی شناخت ترک نہیں کی”۔

یورپ کی آنکھوں کے سامنے ہزاروں بوسنی عوام شہید کر دئیے گئے

علیجاہ عزت بیگووچ مغرب کی آنکھوں کے سامنے ابھرتا ہوا ایک بہادر اور بے باک فرد تھا کیونکہ انہوں نے اپنی 78 سالہ زندگی میں قید، جبر، تباہی اور جنگ کا سامنا کیا۔ صدر ایردوان نے کہا: "انہوں نے جنگ اور جیلوں کا تجربہ کیا۔ ہر شخص اس طرح کے حالات کا سامنا نہیں کرتا۔ ہم سمجھتا ہوں یہ ان کی عظمت کی نشانی ہے۔ ساری دنیا کے سامنے، مہذب یورپ کی آنکھوں کے سامنے صرف ساڑھے تین سال کے اندر ہزاروں لوگ بوسنیا میں شہید کر دئیے گئے۔سریبرنکا بھی ان میں ایک ہے، سریبرنکا نے تاریخ کی شرمناک نسل کشی بھگتی ہے”۔

ترک صدر نے یاد دلایا کہ آج بھی یورپ ویسا ہی ہے ترک شہریوں پر نیدرلینڈ میں کتے چھوڑتا ہے اور ریفرنڈم سے قبل ترک وزراء سے بدتہذیبی کا اظہار کرتا ہے۔ صدر ایردوان نے کہا کہ آسٹریا سے ترکی آنے والے ترک شہریوں کی کتوں کی مدد سے تلاشی لی جاتی ہے۔ یہ بہت بد تہذیب اسکینڈل ہے۔ صدر ایردوان نے کہا: "ایسا کیوں؟ کیونکہ یہ بد تہذیبی ان کے کردار میں کندہ ہے۔ ایک مسلمان اس کردار کا نہیں ہو گا۔ کیونکہ ایک مسلمان پر جبر نہ کیا جا سکتا ہے اور نہ کیا جا سکے گا”۔

علیجاہ نے جن وجوہات کے لیے اپنی جان وقف کی وہ وجوہات ابھی موجود ہیں

صدر ایردوان نے کہا کہ سربراہان مملکت سے طلباء تک، اساتذہ سے سپاہیوں تک ہر شخص کو علیجاہ کی وارثت کو پانا ہو گا اور ان کی زندگی، پالیسیوں، بیانات اور وقار سے سبق حاصل کرنا ہوں گے۔ "علیجاہ کی زندگی ہم سب کے لیے ایک کیس ہے، جن وجوہات کے لیے علیجاہ نے اپنی ساری زندگی وقف کر دی”۔

ایردوان نے کہا: "اگرچہ وقت، مقام اور کردار بدل چکے ہیں لیکن ویسے تمام المیے آج کی دنیا میں بھی موجود ہیں”۔ بوسنیا میں 25 سال قبل جو کچھ ہوا تھا وہ اس سے مختلف نہیں جو گزشتہ 7 سالوں سے شام میں ہو رہا ہے۔ ترک صدر نے مزید کہا: "ہم وہی چیزیں دیکھ رہے ہیں، بالکل ویسے ہی المیے۔ کچھ بھی نہیں بدلا۔ آج بھی طفیلی سامراجیوں نے اپنی استحصالی پالیسیاں جاری رکھی ہوئی ہیں”۔

صدر ایردوان نے روہینگیا مسلمانوں کی طرف توجہ دلائی جو 650000 کی تعداد میں اراکان سے بنگلہ دیش میں زندگی کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ انہوں نے دکھ کے ساتھ تنقید کی کہ :”کیا وہ جو طاقتور کہلاتے ہیں وہ اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتے؟۔ کیا واقعی وہ نہیں کر سکتے؟ وہ بہت اچھی طرح حل کر سکتے ہیں چونکہ مسلمان مر رہے ہیں اس لیے وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے۔ کون ان پر دہشتگردی کر رہا ہے؟ وہ کچھ بدھ مت ہیں۔ اگر ایسے لوگ مسلمانوں سے ہوتے، وہ دہشت گرد قرار دئیے جا چکے ہوتے اور دنیا کا سب سے بڑا ایشو بن چکے ہوتے۔ لیکن جب ایسے لوگ عیسائیت، یا صہیونیت سے تعلق رکھنے والے ہوں تو ان کے خلاف ایک لفظ نہیں بولا جاتا”۔

پانی سے دھلی ساحل پر دھنسی معصوم لاشیں یورپی تہذیب کے مقبرے پر لگے کتبے ہیں

انہوں نے یہ نکتہ واضع کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسے لوگ مسلمانوں میں آئیں تو صرف انہیں "دہشتگرد” کہا جاتا ہے- ہم صاف صاف کہتے ہیں کہ داعش کا اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں اور ترکی ایسی تمام دہشتگرد تنظیموں کے خلاف بغیر کسی تمیز کے جنگ لڑ رہا ہے- صدر ایردوان نے کہا: "کیا وہ جنہوں نے بوسنیا کے وقت ظلم و تشدد سے نظریں چرائیں تھے آج اراکان میں ہونے والے ظلم پر بھی اندھے اور گونگے ہو گئے ہیں؟، وہ جنہوں نے سریبرنیکا میں ہونے والی نسل کشی پر ایک لفظ نہ نکالا تھا، اب حلب، حماہ اور غوتا میں ہونے والی نسل کشی سے لاپرواہ ہیں- کیا انہوں نے اپنے لب کھولے جب حلب سے لوگ نکالے جا رہے تھے؟ جب ادلب سے بھگائے جا رہے تھے؟ بالکل نہیں! تب وہ خواتین اور مردوں کے قتل عام پر بے حس نظر آئے تھے اور آج وہ میانمار میں ہونے والی بدھ متی دہشتگردی پر خاموش ہیں- وہ جنہوں نے قاتلوں کے لیے پلیٹ فارم بنائے اب دہشتگردوں میں اسلحہ بانٹتے ہیں- انہوں نے بھاری اسلحہ سے بھرے 3500 ٹریلر ٹرک بغیر کسی قیمت پر دہشتگرد تنظیموں کو دئیے ہیں- انسانی حقوق، جمہوریت، قومی آزادی اور آزادی جو کبھی بوسنیا کے لئے بہت ضروری سمجھی جاتی تھیں، آج شامیوں، فلسطینیوں اور لیبیاؤں کے لیے سامان عیش و عشرت بن چکی ہیں جن کے بارے وہ سوچ تو سکتے ہیں لیکن پا نہیں سکتے۔ اگرچہ ظالم اور مظلوم تبدیل ہو چکے ہیں لیکن لیکن تماشائی وہی ہیں۔ یورپ بوسنیا میں مر گیا اور شام میں دفن ہو گیا۔ سمندر کے ساحلوں پر جو پانی نے معصوم بچوں کی لاشیں لا پھینکیں وہ یورپی تہذیب کے مقبرے پر لگی تختیاں ہیں”۔

تبصرے
Loading...