اگر لیبیا میں حکومت کا تختہ اُلٹا تو یورپ کو نئے خطرات کا سامنا ہوگا، ترکی امن کی کلید ہے، صدر ایردوان

0 909

اس ہفتے میں دوسری بار لیبیائی بحران کے پرامن حل کو ایجنڈے کا حصہ بناتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترکی جنگ زدہ ملک میں امن کی کلید ہے، اور یورپ کو اس تنازع میں اضافے کے خطرے سے خبردار کیا۔

ایردوان کا یہ تبصرہ ایک امریکی ویب سائٹ کے لیے لکھی گئی ایک تحریر میں اُس وقت سامنے آیا ہے جب اتوار کو لیبیا کے حوالے سے برلن کانفرنس ہو رہی ہے۔ اس تحریر کا عنوان ہے "لیبیا میں امن کا راستہ ترکی سے جاتا ہے۔”

ایردوان نے کہا کہ "لیبیا کو ایک جنگجو کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا تاریخی غلطی ہوگی،” وہ مشرقی لیبیا کے دستوں کے باغی رہنما جنرل خلیفہ حفتر کا حوالہ دے رہے تھے۔

ایرودان نے یورپ کو خبردار کیا کہ اگر وہ لیبیا کی اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ حکومت گورنمنٹ آف نیشنل ایکرڈ (GNA) کو سہارا دینے میں ناکام رہتا ہے تو اسے نئے خطرات کا سامنا ہوگا۔ "لیبیا کی گورنمنٹ آف نیشنل ایکرڈ (GNA) کی حمایت میں یورپ کی ممکنہ ناکامی اس کی جمہوریت اور انسانی حقوق جیسی اپنی اقدار سے بھی انحراف ہوگا۔ اگر لیبیا کی قانونی حکومت کا تختہ الٹ دیا جاتا ہے تو یورپ کو نئے مسائل اور خطرات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ یورپ کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ ترکی کے ساتھ مل کر کام کرے کیونکہ وہ لیبیا کو فوجی مدد فراہم کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا۔

انہوں نے کہا کہ ترکی لیبیا کی مسلح افواج کو تربیت دے گا اور دہشت گردی، انسانی اسمگلنگ اور عالمی امن کو درپیش دیگر سنگین خطرات سے نمٹنے کی تربیت دے گا۔ اگر لیبیا کی قانونی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تو داعش اور القاعدہ کے دہشت گردوں کو "اپنے قدموں پر دوبارہ کھڑے ہونے کے لیے ایک زرخیز سرزمین مل جائے گی۔”

دریں اثناء، برلن کے لیے روانگی سے قبل صدر نے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزیوں کے باوجود حفتر کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر بین الاقوامی برادری کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ برلن مذاکرات لیبیا میں جنگ بندی کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوں گے اور ساتھ ہی یونان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ اس معاملے میں غلط سمت پر کھڑا ہے۔ وہ یعنی یونان لیبیا اور ترکی کے مابین بحری حدود کے معاہدے پر مضطرب ہے۔ معاہدے کے بعد یونانی وزیر اعظم نے کچھ غلط اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے حفتر کو مدعو کرنے پر بھی یونان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کا دورۂ ایتھنز ترکی کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔

12 جنوری کو لیبیا تنازع میں فریقین نے ترک اور روسی رہنماؤں کے مشترکہ مطالبے کے بعد جنگ بندی کا اعلان کر دیا تھا، گو کہ اس معاملے پر مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہوا اور خلیفہ حفتر بغیر معاہدے پر دستخط کیے ماسکو سے چلے گئے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ برلن میں ہونے والی کانفرنس ہدف کے حصول کی جانب بہت اہم ہے۔

چانسلر انگیلا مرکیل نے ترکی، روس، امریکا، چین، فرانس، برطانیہ اور دیگر علاقائی کرداروں کو ایک روزہ کانفرنس کے لیے برلن مدعو کیا ہے۔ اس ملاقات میں جرمنی اور اقوام متحدہ لیبیا میں دارالحکومت کے لیے لڑنے والے فریقین کو امن کی جانب قدم بڑھانے کا مطالبہ کریں گی۔

2011ء میں معمر قذافی کے اخراج کے بعد سے لیبیا میں طاقت کے دو مراکز بن گئے ہیں: ایک مشرقی لیبیا میں کہ جسے مصر اور متحدہ عرب امارات کی پشت پناہی ہے اور دوسرا طرابلس میں کہ جسے اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی برادری کی تائید حاصل ہے۔

فیاض السراج کی زیر قیادت GNA اپریل سے حفتر کی فوجوں کے نشانے پر ہے اور اب تک ان کی لڑائی میں 280 شہری اور 2,000 جنگجو مارے جا چکے ہیں۔

تبصرے
Loading...