لیبیا میں کشیدگی پر یورپی ممالک کو تشویش، سیاسی حل کا مطالبہ

0 125

یورپی ممالک نے لیبیا میں اُس وقت تشدد کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں اور کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے جب پوری دنیا اس وقت ایک عالمی وباء کی زد میں ہے، اور ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا کہ جنگ سے متاثرہ اس ملک میں صلح اور سیاسی حل کا راستہ اپنایا جائے۔

جرمن وزیر خارجہ ہیکو ماس نے اپنے فرانسیسی ہم منصب ژاں-ایو لی دریاں اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ جوزپ بوریل کے ساتھ ملاقات کے بعد لیبیا کی صورت حال کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے۔

حالیہ کشیدگی اور شہریوں کی اموات میں اضافے پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے جرمن وزیر خارجہ نے ان حملوں کی مذمت کی کہ جن میں دارالحکومت طرابلس میں شہریوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

لیبیا کی حکومت، جو گورنمنٹ آف نیشنل ایکرڈ (GNA) کہلاتی ہے، اپریل 2019ء سے باغی جنرل خلیفہ حفتر کے حملوں کی زد میں ہے۔ حفتر کی غیر قانونی فوجیں مشرقی لیبیا سے دارالحکومت طرابلس پر کئی حملے کر چکی ہیں، جن میں 1,000 سے زیادہ شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔

لیبیا کی حکومت نے 26 مارچ کو آپریشن پیس اسٹورم کے نام سے ایک آپریشن کا آغاز کیا تاکہ دارالحکومت پر حملوں کا جواب دیا جائے۔

2011ء میں سابق آمر معمر قذافی کا تختہ الٹے جانے کے بعد 2015ء میں اقوامِ متحدہ کی زیر قیادت ایک سیاسی معاہدے کے تحت لیبیا کی نئی حکومت تشکیل دی گئی۔

ماس نے کہا کہ لیبیا میں متحارب فریقین یہ سمجھ کر غلطی کر رہے ہیں کہ مسائل سیاسی مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے بجائے بندوق کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں۔ جرمن وزیر نے جنوری میں لیبیا کے حوالے سے ہونے والی برلن کانفرنس یاد کرتے ہوئے کہا کہ سفارتی کوششوں وہاں شروع ہوئیں اور جاری رہیں گی۔

جرمن چانسلر انگیلا مرکیل اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرے نے برلن کانفرنس کی مشترکہ میزبانی کی تھی، جس میں عالمی طاقتوں اور علاقائی کرداروں کی جانب سے لیبیا میں عدم مداخلت پر زور دیا گیا تھا اور ساتھ ہی فائر بندی کی حمایت اور اقوام متحدہ کی جانب سے ہتھیاروں پر پابندی سے اتفاق کیا گیا تھا۔

کانفرنس کے اہداف پر زور دیتے ہوئے ماس نے کہا کہ صلح، ملک کے تمام طبقات کو ملا کر ایک سیاسی حل اور لیبیا کی علاقائی سالمیت کا تحفظ بنیادی اہداف ہیں۔

ماس نے مزید کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے شروع کیا گیا آپریشن ORINI لیبیا پر ہتھیاروں کی پابندی کے نفاذ میں اپنا بڑا حصہ ڈالے گا۔ اس آپریشن کا مقصد لیبیا کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنا ہے۔

تبصرے
Loading...