یورپی مسلمانوں کو باقاعدہ امتیازی سلوک کا سامنا ہے، اُن کے حقوق اور آزادیاں غصب کی جا رہی ہیں، صدر ایردوان

0 246

"نسل کُشی : سریبرینیتسا سے حاصل کردہ اسباق” کے عنوان سے ایک ورچوئل اجلاس کے لیے دیے گئے وڈیو پیغام میں صدر ایردوان نے کہا کہ ” یورپی مسلمانوں کو باقاعدہ طور پر امتیازی سلوک کا سامنا ہے، اُن کے حقوق اور آزادیاں غصب کی جا رہی ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ایسے حالات پر ‘روک’ لگانے کا مطالبہ کیا جائے کہ جو انسانیت کے مستقبل اور مختلف عقائد اور ثقافتوں کی بقائے باہمی کے کلچر کو خطرے سے دوچار کرتے ہیں۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے ڈیٹن امن معاہدے کے لیے مذاکرات کے آغاز کے 25 سال مکمل ہونے پر "نسل کُشی : سریبرینیتسا سے حاصل کردہ اسباق” کے عنوان سے ہونے والے ایک ورچوئل اجلاس کے لیے وڈیو پیغام دیا ہے۔

” نسل کُشی میں اپنے پیاروں کو کھونے والے افراد کی جانب سے کیے گئے انصاف کے مطالبوں پر پوری طرح عملدرآمد نہیں کیا گیا”

وہ نسل کُشی جو 25 سال پہلے سریبرینیتسا میں، یورپ کے قلب میں کی گئی، انسانیت کی تاریخ پر ایک سیاہ دھبہ ہے۔ ربع صدی گزرنے کے باوجود 8,372 بوسنیائی بھائیوں اور بہنوں کا ظالمانہ قتل ہمارے دلوں کو زخمی کرتا ہے۔ اس موقع پر میں ایک مرتبہ پھر اپنے شہداء کے لیے دعائے مغفرت کرتا ہوں اور اس نسل کُشی کے شکار افراد کے لواحقین اور بوسنیا کے عوام کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ بدقسمتی سے، نسل کُشی میں اپنے پیاروں کو کھونے والے افراد کی جانب سے کیے گئے انصاف کے مطالبوں پر پوری طرح عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ وہ کہ جنہوں نے اقوامِ متحدہ کی پناہ میں موجود ہمارے بھائیوں اور بہنوں کو قاتلوں کے حوالے کیا اور انہیں مرنے کے لیے بھیجا، انہیں ذمہ دار نہیں ٹھیرایا گیا۔ اس سے بھی بُرا یہ کہ انسانیت نے، خاص طور پر یورپی سیاست دانوں اور میڈیا اداروں نے، سریبرینیتسا قتلِ عام سے سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ شام سے لے کر یمن، اراکان سے نیوزی لینڈ تک دنیا کے کئی حصوں میں جو قتلِ عام ہم نے دیکھے ہیں وہ اس کی دردناک ترین مثال ہیں۔ بین الاقوامی تنظیمیں جنہوں نے سریبرینیتسا کا قتلِ عام دیکھا، حالیہ چند سالوں میں ہونے والے مظالم پر ایک مرتبہ پھر محض خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔”

"کئی مغربی ملکوں میں نسل پرست دہشت گردی طاعون کی طرح پھیلی ہوئی ہے”

"ہم نے ان ملکوں کو دیکھا ہے کہ جو دنیا کو انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیکچر دیتے ہیں لیکن اسلاموفوبیا اور زینوفوبیا میں پیش پیش ہیں۔ نسل پرست دہشت گردی کئی مغربی ملکوں میں طاعون کی طرح پھیلی ہوئی ہے، کبھی کبھی تو اسے صدارتی سطح تک تحفظ ملتا ہے۔ مسلمانوں کی عبادت گاہوں، کام کی جگہوں، مساجد اور این جی او دفاتر پر حملے اور اُن کو ہدف بنانے کے واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ یورپی مسلمانوں کو باقاعدہ طور پر امتیازی سلوک کا سامنا ہے، اُن کے حقوق اور آزادیاں غصب کی جا رہی ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ایسے حالات پر ‘روک’ لگانے کا مطالبہ کیا جائے کہ جو انسانیت کے مستقبل اور مختلف عقائد اور ثقافتوں کی بقائے باہمی کے کلچر کو خطرے سے دوچار کرتے ہیں۔ آج مسلم مخالف لہر کے خلاف ویسی ہی جدوجہد کی ضرورت ہے، جیسی جنگ ہولوکاسٹ کے بعد یہود مخالفت (antisemitism) کے خلاف لڑی گئی تھی۔ کرونا وائرس کی وجہ سے بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ اور سماجی تناؤ کے اس دَور میں جمہوریت، آزادی، امن اور انصاف کی بات کرنے والے تمام افراد اور سربراہانِ مملکت پر اہم کام اور ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ ہمیں سریبرینیتسا جیسے قتلِ عام کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے تمام غلطیوں اور خامیوں کے خلاف کھل کر آواز اٹھانا ہوگی اور ہمیں مل جُل کر حل تلاش کرنا ہوگا۔ ہمیں نہ صرف اپنے اور اپنے ملک کے لیے بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے بھی ان ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہونا ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ اہمیت کا حامل اور بروقت اجلاس، جو سریبرینیتسا قتلِ عام کے اور ڈیٹن امن معاہدے کے مذاکرات کے آغاز کے 25 سال مکمل ہونے پر منعقد کیا جا رہا ہے، دنیا کو اور خاص طور پر یورپی ممالک کو جگائے گا۔ میں اس اجلاس کے انتظامات کرنے والے ہر شخص کو مبارک باد پیش کرتا ہوں، اور ان تمام رہنماؤں کو بھی کہ جنہوں نے اس کی تائید کی اور اپنی شرکت کے ذریعے اس اجلاس میں حصہ ڈالا۔”

تبصرے
Loading...